بابری مسجد ہماری اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے، ترجمان دفترخارجہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251206-1-2
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اسلام آباد: ترجمان دفترخارجہ نے بابری مسجد کی شہادت سے متعلق بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ بابری مسجد ہماری اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے۔ترجمان دفتر خار جہ کا کہنا تھا کہ 6 دسمبر 1992 کا واقعہ آج بھی دکھ اور تشویش کا باعث ہے، بابری مسجد کی شہادت عدم برداشت اور مذہبی تعصب کی علامت ہے۔اپنے بیان میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ مذہبی ورثے کا تحفظ عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے، مسلمانوں کے مذہبی مقامات کو نقصان پہنچانے کے واقعات پراحتساب ضروری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بابری مسجد کے بعد بھارتی مسلمان عدم تحفظ اور ذہنی تکلیف کا شکار ہیں، ہندو انتہا پسند تنظیمیں ریاستی سرپرستی سے اقلیتوں کو مزید محدود کرناچاہتی ہیں۔ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان بین المذاہب ہم آہنگی اور پْرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے، عالمی برادری مسلمانوں کے مذہبی ورثے کے تحفظ کے لیے کردارادا کرے، بھارت تمام شہریوں کے لیے مساوی حقوق اور مذہبی رواداری کو یقینی بنائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید(فائل فوٹو)۔ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کے بیان پر ردِعمل دے دیا۔
ایک بیان میں سعدیہ جاوید کا کہنا ہے کہ فلاحی ریاست کا درس دینے والے آج غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں ہیں؟
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمٰن کا بیان ان کی سطحی اور غریب دشمن سوچ کا عکاس ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو فراڈ قرار دینا لاکھوں مستحق خاندانوں کی توہین کے مترادف ہے۔