کوئٹہ کے علاقے سریاب میں ریلوے ٹریک کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا گیا، جس کے باعث ٹرینوں کی آمدورفت روک دی گئی۔
ڈان نیوز کے مطابق پولیس نے بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں ریلوے ٹریک کو شدید نقصان پہنچا اور جائے وقوعہ پر بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیم پہنچ گئی، جبکہ پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا۔
قبل ازیں، کوئٹہ میں قمبرانی روڈ پر بھی دو دھماکے ہوئے تھے، جن میں پولیس چوکی اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، تاہم ان میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
پولیس کے مطابق پہلا دھماکا اس وقت ہوا جب نامعلوم موٹر سائیکل سوار نے پولیس چیک پوسٹ پر دستی بم پھینکا۔ دوسرا دھماکا اسی علاقے میں دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) سے کیا گیا، جس کا مقصد پہلے دھماکے کی جگہ جانے والی سی ٹی ڈی کی گاڑی کو نشانہ بنانا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے

کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا،شہری رُل گئے۔اتوار کو دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کے جبری شٹ ڈاؤن سے کراچی کو پانی کی فراہمی معطل ہوئی۔پیر کو کےالیکٹرک کی مین کیبل میں فالٹ کے باعث حب پمپنگ اسٹیشن کی بجلی معطل ہونے سے پانی کی فراہمی مزید کم ہوگئی۔شہری ٹینکرز مافیا کے ہاتھوں مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔ترجمان کراچی واٹرکارپوریشن کا کہنا ہے کہ حب سے کراچی کو یومیہ 85ملین گیلن پانی کی فراہمی متاثر ہے۔ترجمان کےالیکٹرک کے مطابق حب پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی فراہمی متبادل ذرائع سے جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟