بابری مسجد ہماری اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے: دفترِ خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
اسلام آباد (نیوزڈیسک) دفترِ خارجہ کے ترجمان نے بابری مسجد کی شہادت سے متعلق بیان میں کہا ہے کہ 6 دسمبر 1992ء کا واقعہ آج بھی دکھ اور تشویش کا باعث ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ بابری مسجد کی تباہی عدم برداشت اور مذہبی تعصب کی علامت ہے، مذہبی ورثے کا تحفظ عالمی برادری کی مشترکہ ذمے داری ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ مسلمانوں کے مذہبی مقامات کو نقصان پہنچانے کے واقعات پر احتساب ضروری ہے، بابری مسجد کے بعد بھارتی مسلمان عدم تحفظ اور ذہنی تکلیف کا شکار ہیں۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہندو انتہا پسند تنظیمیں ریاستی سرپرستی سے اقلیتوں کو مزید محدود کرنا چاہتی ہیں، پاکستان بین المذاہب ہم آہنگی اور پُرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ عالمی برادری مسلمانوں کے مذہبی ورثے کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرے، بھارت تمام شہریوں کے لیے مساوی حقوق اور مذہبی رواداری کو یقینی بنائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔