ترجمان دفترخارجہ کا سعودی عرب میں پاک افغان مذاکرات سے متعلق اظہار لاعلمی
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
فائل فوٹو
ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سعودی عرب میں مذاکرات سے متعلق لاعلمی کا اظہار کردیا۔
ہفتہ وار بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں پاک افغان مذاکرات سے متعلق میڈیا رپورٹس کا علم ہے، میرے پاس اس حوالے سے کوئی نئی معلومات نہیں، ترک صدر نے دو ہفتے قبل اعلان کیا تھا کہ ایک اعلیٰ سطح ترک وفد اسلام آباد آئے گا، ترکیہ وفد کے نہ آنے کی وجہ شیڈولنگ یا پھر طالبان کی طرف سے تعاون کی عدم دستیابی ہوسکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے سرحد کی بندش ہم نے اپنی حفاظت کے لیے کی ہے، ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے شہری دہشت گردی کا نشانہ بنیں، بارڈر اسی لیے بند ہے اور سرحد اس وقت تک بند رہے گی جب تک افغانستان کی جانب سے پختہ یقین دہانی نہ مل جائے، ہمیں یقین دہائی کرائی جائے کہ دہشت گرد اور پرتشدد عناصر پاکستان میں داخل نہیں ہوں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ مسئلہ صرف ٹی ٹی پی نہیں، افغان شہری بھی پاکستان میں سنگین جرائم میں ملوث رہے ہیں، سرحد کی بندش کے تناظر کو اسی حقیقت میں سمجھا جائے، تجارتی گزر گاہیں اور بارڈر کراسنگ بدستور بند ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے سرحد صرف انسانی امداد کے لیےکھولی تھی، صرف یو این کی امدادی اشیا کو استثنیٰ دیا ہے، پاکستان کا افغانستان کے عوام سے کسی قسم کا اختلاف نہیں، وہ ہمارے بھائی بہن ہیں، بارڈر بندش کے سیکیورٹی اسباب ہیں، افغان عوام کے لیے امدادی راہداری میں پاکستان ہمیشہ مثبت رہا ہے۔
اسلام آباد ترجمان دفترخارجہ طاہرحسین اندرابی.
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ امدادی ترسیل کا آغاز مرحلہ وار ہوگا، تینوں کیٹیگریز کے شیڈول کی تاریخیں بعد میں فراہم کی جائیں گی، متعلقہ شیڈول وزارت کے ریکارڈ سے چیک کر کے فراہم کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ریاستیں اپنے دو طرفہ تعلقات بڑھانے میں خودمختار ہیں، وزارت تجارت اور دفتر خارجہ کے ساتھ مشاورت مکمل ہوگئی ہے، تمام رسمی کارروائی تیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، بارڈر پالیسی کا تعلق افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عملی تعاون سے ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کل بابری مسجد کا 33واں یوم شہادت ہے، یہ واقعہ آج بھی تشویش اور دکھ کا باعث ہے، بابری مسجد کا انہدام عدم برداشت، مذہبی امتیاز کے خلاف کھڑا ہونے والوں کے لیے تکلیف دہ ہے
ترجمان کا کہنا تھا کہ مذہبی ورثے اور مقدس مقامات کا تحفظ عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے، مسلم مذہبی علامتوں اور تاریخی ورثے کو نقصان پہنچانے کے ہر عمل کا شفاف احتساب ضروری ہے، کسی بھی مقدس مقام کی بے حرمتی مذہبی مساوات کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
طاہر حسین اندرابی کا کہنا تھا کہ بھارتی مسلمانوں کے احساس محرومی اور ذہنی اذیت پر گہری تشویش ہے، ریاستی سرپرستی نے ہندو فاشسٹ تنظیموں کو مزید دلیر بنادیا ہے، ہندو تنظیمیں بھارتی مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی مکمل حاشیہ بندی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغان اور بھارتی حکام کے بڑھتے رابطوں پر اقوام متحدہ کی رپورٹ سے آگاہ نہیں، بھارت اور افغانستان کا معمول کی سفارتی اور تجارتی سطح پر تعاون قابل اعتراض نہیں، مسئلہ تب ہوتا ہے جب تیسرا ملک پاکستان کو زیرو سم انداز میں دیکھ کر افغانستان سے تعاون بڑھاتا ہے، یہ تشویشناک ہے، پاکستان اس معاملے پر مسلسل نگرانی بھی کرے گا اور اپنے تحفظات اٹھاتا بھی رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ انہوں نے تھا کہ کے لیے
پڑھیں:
چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
مزید پڑھیںمستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی
چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔
چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔