’پچ‘ سے متعلق نامناسب تبصرہ، عثمان خواجہ کیخلاف ’کوڈ آف کنڈکٹ‘ کے تحت کارروائی کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
پرتھ ٹیسٹ کی پچ پر نامناسب تبصرے کے بعد آسٹریلوی بیٹر عثمان خواجہ ایک بار پھر مشکل میں پھنس گئے ہیں۔سابق ایشیز کھلاڑی نے اپنی فاؤنڈیشن کے ظہرانے کے دوران آئی سی سی کی جانب سے ’ویری گڈ‘ قرار دی جانے والی پچ کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کیے جنہیں کرکٹ آسٹریلیا نے نامناسب قرار دیا ہے۔
پابندی اور وضاحت کا امکانمیڈیا رپورٹس کے مطابق کرکٹ آسٹریلیا عثمان خواجہ سے باضابطہ وضاحت طلب کر سکتا ہے اور اگر ضروری ہوا تو کھلاڑی کے خلاف کوڈ آف کنڈکٹ کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔ کرکٹ آسٹریلیا کا مؤقف ہے کہ پبلک سطح پر کھلاڑی اس قسم کے تبصرے کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔
عثمان خواجہ پرتھ ٹیسٹ سے قبل گولف کھیلنے کے دوران کمر کی تکلیف کا شکار ہو گئے تھے، جس کے سبب وہ اوپننگ کے لیے میچ میں شرکت نہیں کر سکے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:آسٹریلوی کھلاڑی عثمان خواجہ کی بیٹیوں کے ہمراہ نماز پڑھتے ہوئے ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
اس پر سابق کرکٹرز اور ماہرین نے ان کے ڈراپ کرنے کا مطالبہ کیا تھا، تاہم 4 دسمبر سے شروع ہونے والے ایشیز سیریز کے ڈے اینڈ نائٹ برسبین ٹیسٹ کے اسکواڈ میں انہیں برقرار رکھا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آسٹریلیا پچ پرتھ عثمان خواجہ کوڈ آف کنڈکٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا سٹریلیا پچ پرتھ عثمان خواجہ کوڈ آف کنڈکٹ عثمان خواجہ
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔