آسٹریلوی بیٹر عثمان خواجہ کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
آسٹریلوی بیٹر عثمان خواجہ کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا۔ عثمان خواجہ پرتھ ٹیسٹ سے قبل گولف کھیل کر کمر کی تکلیف کا شکار ہونے کے تنازع کے بعد ایک اور مشکل میں پڑ گئے۔
عثمان خواجہ کو اب پرتھ ٹیسٹ میچ کی پچ پر تبصرے نے مشکل میں ڈال دیا۔ عثمان خواجہ نے آئی سی سی کی جانب سے ویری گڈ قرار دی جانے والی پچ کے بارے نامناسب الفاظ استعمال کیے۔
آسٹریلوی میڈیا کے مطابق کرکٹ آسٹریلیا پرتھ ٹیسٹ کی پچ پر نامناسب تبصرے کی وضاحت طلب کرے گا، عثمان خواجہ نے اپنی فاؤنڈیشن کے ظہرانے کے موقع پر گفتگو میں نامناسب تبصرہ کیا۔
اس حوالے سے کرکٹ آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ پبلک میں عثمان خواجہ ایسے تبصرے کا اختیار نہیں رکھتے۔
آسٹریلوی میڈیا نے کہا کہ کرکٹ آسٹریلیا برسبین ٹیسٹ سے قبل عثمان خواجہ سے باضابطہ وضاحت طلب کر سکتا ہے۔ ضروری سمجھا گیا تو عثمان خواجہ کے خلاف کوڈ آف کنڈکٹ کے تحت کارروائی ہو گی۔
عثمان خواجہ کو ایشیز سیریز کے برسبین ٹیسٹ سے قبل فٹنس ٹیسٹ پاس کرنا ہے۔ پرتھ ٹیسٹ سے قبل گولف کھیل کر کمر کی تکلیف کا شکار ہونے پر عثمان خواجہ کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
عثمان خواجہ پرتھ ٹیسٹ میں اوپننگ کے لیے نہیں آ سکے تھے۔ سابق کرکٹرز اور ماہرین نے عثمان خواجہ کو ڈراپ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
چار دسمبر سے شروع ہونے والے ایشیز سیریز کے ڈے اینڈ نائٹ برسبین ٹیسٹ کے اسکواڈ میں عثمان خواجہ کو برقرار رکھا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: عثمان خواجہ کو ٹیسٹ سے قبل پرتھ ٹیسٹ
پڑھیں:
ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
قومی اقتصادی سروے 26-2025 میں رپورٹ کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں سمیت دیگر جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور مالی سال 26-2025 میں لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔
قومی اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی جو سالانہ 1.9 فیصد اضافہ ہوا اور خچروں کی تعداد 1.8 فیصد اضافے کے بعد دو لاکھ 21 ہزار ہوگئی ہے۔
سروے میں بتایا گیا کہ گھوڑوں کی تعداد میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 3 لاکھ 86 ہزار تک پہنچ گئی ہے، ملک میں رواں مالی سال کے دوران بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ سے تجاوز کرگئی اور سالانہ 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اسی طرح گائے کی تعداد 6 کروڑ 19 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی ہے جو 3.8 فیصد اضافہ ہے، بکریوں کی تعداد 9 کروڑ 18 لاکھ سے بڑھ گئی اور سالانہ 2.7 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
قومی اقتصادی سروے میں مزید بتایا گیا کہ ملک میں بھیڑوں کی تعداد 1.2 فیصد بڑھ کر 3 کروڑ 35 لاکھ سے زائد ہوگئی ہے، اونٹوں کی تعداد میں 1.4 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 11 لاکھ 93 ہزار ہوگئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال ماہی گیری کے شعبے میں 1.7 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔