پاکستان میں کراچی کی رہائشی نکیتا ناگ دیو نے ایک ویڈیو پیغام میں نریندر مودی سے اپنے بھارتی شوہر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق بھارتی شہری وکرم کمار ناگ دیو نے اپنی پاکستانی بیوی نکیتا کو دھوکے سے پاکستان میں چھوڑ کر اب بھارت میں ہی اپنی دوسری شادی کی تیاری شروع کردی ہے جس پر متاثرہ خاتون نے سوشل میڈیا کے ذریعے انصاف کی اپیل کی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مدھیہ پردیش کے شہر اندور کے رہائشی وکرم کمار ناگ دیو نے 2020 میں پاکستان میں کراچی کی رہائشی نکیتا سے ہندو رسم و رواج کے تحت شادی کی تھی۔ اُس شادی کے بعد فوری طور پر نکیتا بھارت چلی گئیں مگر چند مہینوں کے بعد ویزا کے مسائل بتا کر 9 جولائی 2020 کو انھیں اٹاری بارڈر پر چھوڑ دیا گیا۔ تب سے وکرم کی جانب سے کسی بھی قسم کی واپسی یا رابطے کی کوشش نہیں کی گئی۔ 

पाकिस्तान की एक महिला ने प्रधानमंत्री नरेंद्र मोदी से न्याय की गुहार लगाई है। निकिता नागदेव ने शुक्रवार को पाकिस्तान से वीडियो जारी किया। कहा कि अगर मुझे सरकार से न्याय नहीं मिला तो कोर्ट की शरण लूंगी । https://t.

co/dt5KDy2TS7 #Pakistan #NikitaNagdev #PMModi #IndiaPakistan… pic.twitter.com/ejBVx6P0wH

— Dainik Bhaskar (@DainikBhaskar) December 6, 2025

گزشتہ چند دنوں میں یہ معاملہ پھر منظرعام پر آیا جب نکیتا کو معلوم ہوا کہ وکرم نے بھارت میں ایک اور خاتون شیوانگی ڈنگرہ سے منگنی کرلی ہے۔ اس خبر نے نکیتا اور ان کے خاندان کو پریشان کردیا۔ 2025 کے شروع میں نکیتا نے ایک ویڈیو اور تحریری درخواست کے ذریعے عدالت سے انصاف اور شوہر کی ملک بدری کا مطالبہ کیا تھا تاکہ اسے انصاف ملے۔ 

نکیتا کے مطابق وکرم نے نہ صرف اپنی پہلی بیوی کو بغیر طلاق کے چھوڑا بلکہ اس نئے رشتے کی تیاری چلتی رہی، جو کہ قانونی اور سماجی اعتبار سے دونوں ممالک کے قوانین کی خلاف ورزی کا باعث بنتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ ایسے بے ضابطہ ازدواجی معاملات کی فوری چھان بین کی جائے اور انصاف فراہم کیا جائے۔

اس معاملے پر سندھ پینچایت ثالثی اینڈ لیگل کونسلنگ سینٹر نے وکرم اور اُس کی منگیتر دونوں کو نوٹس جاری کیے، مگر کسی مفاہمت پر رسائی نہ ہو سکی۔ 30 اپریل 2025 کو جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ چونکہ یہ شادی پاکستان میں ہوئی تھی اور دونوں فریق پاکستانی شہری تھے، لہٰذا معاملے کا قانونی دائرہ اختیار پاکستان کا ہے اور پاکستان میں قانونی کارروائی کی ضرورت ہے۔ 

اس کے علاوہ اس واقعے نے یہ سوال بھی اٹھا دیا ہے کہ دو ممالک کے قوانین اور ویزا نظام کے بیچ پھنسے زوجین کا کیا مستقبل ہوگا؟ کیا صرف تحریری درخواستیں اور میڈیا انکشافات سے انصاف ممکن ہے؟ یا بین الاقوامی سطح پر قانونی معاونت ضروری ہے؟

نکیتا کا ویڈیو بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہورہا ہے۔ مختلف بھارتی میڈیا رپورٹس میں اس کیس کی تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں۔ 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان میں

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: اورنگی ٹاؤن میں خاتون سے نازیبا حرکت کرنیوالے لڑکے کا صاف اور قابلِ شناخت چہرا سامنے آ گیا
  • طلاق کی افواہیں بے بنیاد؟ شہزادی بیٹریس کی شوہر کے ہمراہ نئی خوشگوار تصویر وائرل
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو