تیز رفتار کار کو حادثہ؛ مرسڈیز اڑتی ہوئی دو گاڑیوں کے اوپر سے گزر گئی، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
رومانیا میں تیز رفتاری کے باعث پیش آنے والے ایک نہایت حیران کن اور خوفناک ٹریفک حادثہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس میں ایک مرسڈیز کار راؤنڈ اباؤٹ سے ٹکرا کر ہوا میں بلند ہوتی ہوئی دو گاڑیوں کے اوپر سے گزر گئی اور پھر زور دار آواز کے ساتھ سڑک پر جا گری۔ یہ ناقابلِ یقین مناظر سیکیورٹی کیمروں میں ریکارڈ ہوئے اور چند ہی گھنٹوں میں اڑتی ہوئی کار کے عنوان سے وائرل ہو گئے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب 55 سالہ ڈرائیور ذیابیطس کے باعث گاڑی پر کنٹرول نہ رکھ سکا اور مرسڈیز انتہائی رفتار سے راؤنڈ اباؤٹ کی جانب بڑھی اور وسط میں بنے ڈیوائیڈر سے ٹکرا کر فضا میں اچھل گئی۔ ویڈیو میں دکھائی دینے والا منظر بظاہر کسی فلمی سین جیسا لگتا ہے مگر حقیقت میں یہ ایک ہولناک واقعہ تھا۔
View this post on Instagramحکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ تیز رفتاری اور غفلت کے سنگین نتائج کی واضح مثال ہے۔ ان کے مطابق چند لمحوں کی لاپرواہی نہ صرف ڈرائیور کے لیے بلکہ دیگر راہگیروں کے لیے بھی جان لیوا ثابت ہوسکتی تھی۔ خوش قسمتی سے اس حادثے میں نہ تو کوئی دوسرا شخص زخمی ہوا اور نہ ہی گاڑی کے اندر موجود ڈرائیور کو جان لیوا چوٹیں آئیں۔
ایمرجنسی ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچیں اور زخمی ڈرائیور کو اسپتال منتقل کرنے کی پیشکش کی، تاہم اس نے طبی ٹرانسپورٹ سے انکار کردیا۔ مقامی شہریوں اور سڑکوں کی حفاظت سے متعلق افسران نے اس واقعے کے بعد عوام سے اپیل کی ہے کہ تیز رفتاری اور خطرناک ڈرائیونگ سے گریز کیا جائے تاکہ ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔
ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر میمز اور تبصروں کا سیلاب آگیا، لیکن ماہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ حادثات تفریح کا نہیں بلکہ سنجیدگی اور احتیاط کا موضوع ہیں کیونکہ ایسی غفلت انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بن سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ