اسلام آباد (نیوز ڈیسک) حکمران اتحاد اور اس کے رفقا سے آویزش کے بعد تحریک انصاف نے نئے محاذ کھول لئے ہیں جہاں آئندہ دنوں میں گھمسان کا رن پڑنے کا امکان ہے۔ جمعہ کو خیبر پختونخوا حکومت نے نو مئی کے متعدد مقدمات ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو تحریک انصاف کے بارے میں سخت تادیبی اقدامات کا فوری ردعمل ہے۔ اطلاعات کے مطابق کے پی محکمہ قانون نے نو مئی کے 57؍ مقدمات ختم کرنے کی سفارش صوبائی کابینہ کو بھیج دی ہے دوسری جانب وفاقی حکومت نو مئی کے مقدمات برقرار رکھنے کیلئے نئی قانون سازی سے بھی گریز نہیں کریگی۔ باور کیا جاتا ہے کہ کے پی حکومت نے یہ قدم باقاعدہ منصوبہ بندی کے ذریعے اٹھایا ہے جن مقدمات کو ختم کیا جارہا ہے ان میں تحریک انصاف کے متعدد ارکان اسمبلی ماخوذ ہیں اور نامزد ہیں ان کے خلاف عدالت سزا سناتی ہے تو وہ نا اہل ہوجائیں گے صوبائی ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر سے کئی مقدمات واپس لینے کی باضابطہ سفارش تیار ہوچکی ہے وفاقی وزارت قانون کے ذرائع نے جنگ /دی نیوز کو جمعہ کی شب بتایا ہے کہ وفاقی حکومت اس پوری صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے کے پی حکومت قبل ازیں کئی ایسے مقدمات سے یک طرفہ طور پر دستبردار ہوچکی ہے ان مقدمات کو بلاوجہ ختم کرنا ایک طرف دہشت گردی کی مدد کرنا ہے تو دوسری جانب وفاقی حکومت کے معاملات میں دخل اندازی بھی بنتی ہے۔ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلی سہیل آفریدی کو اڈیالہ جیل سے حکم ملا ہے کہ وہ فرنٹ فٹ پر کھیلیں۔ انہیں اس کا پہلا عملی مظاہرہ کل اس وقت کرنا ہوگا جب وہ پشاور میں اپنے پہلے جلسہ عام سے خطاب کرینگے۔ وفاقی حکومت اور ادارے اس جلسہ عام کے سلسلے میں وزیر اعلی کی سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھے ہیں وہ وزیراعلی کے خطاب کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیں گے اس سلسلے میں صوبائی انتظامیہ اور اس کے سربراہ کی بداحتیاطی وفاقی حکومت کے سخت اقدام اور کاررو ائی کا سب بھی بن سکتی ہے معلوم ہوا ہے کہ تحریک انصاف کے ماہرین آئین و قانون نئی صورتحال سے کافی خوفزدہ ہیں۔ جمعہ کو تحریک انصاف کے قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اسد قیصر سے اعلی سطح کی تبدیلیوں پر ان کی ر ائے دریافت کی گئی تو وہ یہ کہہ کر ٹال گئے کہ ذر ائع ابلاغ سے اس بارے میں گفتگو کرینگے تو اس پر رائے زنی کرینگے۔ جمعہ کے روز بانی تحریک انصاف کی بہن علیمہ خان نے دھمکی دی ہے کہ وہ بہنوں کی ملاقات پر پابندی کے بعد اب اس پر احتجاج کے لئے سڑکوں پر آئیں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: تحریک انصاف کے وفاقی حکومت

پڑھیں:

آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع

فائل فوٹو 

آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع ہوگئی، میرپور ڈویژن میں انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہوئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی ہدایت پر پی ٹی اے نے انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا عمل شروع کیا، آزاد کشمیر میں 5 جون سے انٹرنیٹ سروس معطل تھی۔

آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کے باعث انٹرنیٹ سروس بند کی گئی تھی، چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے انٹرنیٹ بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع