تحریک انصاف نے نئے محاذ کھول لئے، گھمسان کا رن پڑنے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) حکمران اتحاد اور اس کے رفقا سے آویزش کے بعد تحریک انصاف نے نئے محاذ کھول لئے ہیں جہاں آئندہ دنوں میں گھمسان کا رن پڑنے کا امکان ہے۔ جمعہ کو خیبر پختونخوا حکومت نے نو مئی کے متعدد مقدمات ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو تحریک انصاف کے بارے میں سخت تادیبی اقدامات کا فوری ردعمل ہے۔ اطلاعات کے مطابق کے پی محکمہ قانون نے نو مئی کے 57؍ مقدمات ختم کرنے کی سفارش صوبائی کابینہ کو بھیج دی ہے دوسری جانب وفاقی حکومت نو مئی کے مقدمات برقرار رکھنے کیلئے نئی قانون سازی سے بھی گریز نہیں کریگی۔ باور کیا جاتا ہے کہ کے پی حکومت نے یہ قدم باقاعدہ منصوبہ بندی کے ذریعے اٹھایا ہے جن مقدمات کو ختم کیا جارہا ہے ان میں تحریک انصاف کے متعدد ارکان اسمبلی ماخوذ ہیں اور نامزد ہیں ان کے خلاف عدالت سزا سناتی ہے تو وہ نا اہل ہوجائیں گے صوبائی ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر سے کئی مقدمات واپس لینے کی باضابطہ سفارش تیار ہوچکی ہے وفاقی وزارت قانون کے ذرائع نے جنگ /دی نیوز کو جمعہ کی شب بتایا ہے کہ وفاقی حکومت اس پوری صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے کے پی حکومت قبل ازیں کئی ایسے مقدمات سے یک طرفہ طور پر دستبردار ہوچکی ہے ان مقدمات کو بلاوجہ ختم کرنا ایک طرف دہشت گردی کی مدد کرنا ہے تو دوسری جانب وفاقی حکومت کے معاملات میں دخل اندازی بھی بنتی ہے۔ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلی سہیل آفریدی کو اڈیالہ جیل سے حکم ملا ہے کہ وہ فرنٹ فٹ پر کھیلیں۔ انہیں اس کا پہلا عملی مظاہرہ کل اس وقت کرنا ہوگا جب وہ پشاور میں اپنے پہلے جلسہ عام سے خطاب کرینگے۔ وفاقی حکومت اور ادارے اس جلسہ عام کے سلسلے میں وزیر اعلی کی سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھے ہیں وہ وزیراعلی کے خطاب کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیں گے اس سلسلے میں صوبائی انتظامیہ اور اس کے سربراہ کی بداحتیاطی وفاقی حکومت کے سخت اقدام اور کاررو ائی کا سب بھی بن سکتی ہے معلوم ہوا ہے کہ تحریک انصاف کے ماہرین آئین و قانون نئی صورتحال سے کافی خوفزدہ ہیں۔ جمعہ کو تحریک انصاف کے قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اسد قیصر سے اعلی سطح کی تبدیلیوں پر ان کی ر ائے دریافت کی گئی تو وہ یہ کہہ کر ٹال گئے کہ ذر ائع ابلاغ سے اس بارے میں گفتگو کرینگے تو اس پر رائے زنی کرینگے۔ جمعہ کے روز بانی تحریک انصاف کی بہن علیمہ خان نے دھمکی دی ہے کہ وہ بہنوں کی ملاقات پر پابندی کے بعد اب اس پر احتجاج کے لئے سڑکوں پر آئیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: تحریک انصاف کے وفاقی حکومت
پڑھیں:
وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔