کراچی: ای چالان سسٹم میں سنگین خامیاں، شہری پریشان
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
کراچی میں ٹریفک پولیس کے ای چالان سسٹم میں شدید خامیاں سامنے آئی ہیں، جس کے باعث کئی شہریوں کو ایسے چالان بھیجے جا رہے ہیں جو دراصل ان کے نہیں ہیں۔
متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ چالان پر درج موٹرسائیکل نمبر اور اصل نمبر مختلف ہیں۔ ایک شہری نے بتایا کہ چالان میں موٹرسائیکل نمبر مختلف لکھا گیا ہے، جبکہ وہ خود چالان میں درج وقت اور مقام پر موجود ہی نہیں تھا۔ مثال کے طور پر چالان میں 27 اکتوبر کو صبح 9:45 بجے تین تلوار، کلفٹن کا وقت اور مقام درج تھا، حالانکہ شہری اسی وقت اپنے گھر اسکیم 33 میں موجود تھا۔
چالان میں شہری پر الزام تھا کہ وہ بغیر ہیلمٹ کے موٹرسائیکل چلا رہا تھا اور اسے 2,500 روپے جرمانہ اور 6 ڈی میرٹ پوائنٹس دیے گئے۔ متاثرہ شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر ای چالان میں غلطیاں معمول بن گئیں تو شہری کہاں جائیں گے اور انصاف کیسے حاصل ہوگا۔
خیال رہے کہ صرف تین دن میں کراچی کی سڑکوں پر 11,000 سے زائد ای چالان کیے گئے، جن میں سے 1,755 چالان تیز رفتاری پر تھے۔ شہریوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کیمرے اور ڈیوائسز لگائے گئے ہیں، مگر سڑکوں پر تیز رفتاری کی حد یا دیگر خلاف ورزیوں کی واضح نشاندہی کے لیے کوئی بینرز یا سائن بورڈ نہیں لگائے گئے۔
اس حوالے سے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ای چالان سسٹم کے تحت پہلا چالان معاف ہے، مگر دوبارہ قانون کی خلاف ورزی کرنے پر چالان بھرنا ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: چالان میں
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔