نئے مالی سال کی تیسری مانیٹری پالیسی کا اعلان 27اکتوبر ہو گا
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(بزنس رپورٹر)اسٹیٹ بینک نئے مالی سال کی تیسری مانیٹری پالیسی کا اعلان 27اکتوبر کو کریگا۔مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس 27اکتوبر بروز پیر کو گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احد کی زیر صدارت منعقد ہو گا جس میں معاشی حالات ،بیرونی قرضہ اور دیگر اہم اشاریوں پر غور کیا جائے گا۔مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں شرح سود میں تبدیلی یا اسے برقرار رکھنے کا حتمی فیصلہ کیا جائیگا۔معاشی ماہرین کے مطابق مہنگائی کے خطرات کے باعث شرح سود 11 فیصد پر برقرار رہنے کا امکان ہے ، کیونکہ سیلاب کے بعد غذائی اشیاء کی بڑھتی ہوئی مہنگائی شرحِ سود کی کمی میں رکاوٹ ہے ،معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ شرح سود کو برقرار رکھنے کے لیے مرکزی بینک کے پاس گنجائش موجود ہے۔ نئے مالی سال کے آغاز سے پالیسی ڈسکاونٹ ریٹ برقرارہے مرکزی بینک نیماہ ستمبر 2025 میں شرح سود کو برقرار رکھنے کا اعلان کیا تھا۔مرکزی بینک جون 2024 سیاب تک شرحِ سود میں1100 بیسس پوائنٹس کم کر چکا ہے اورآخری 100 بیسس پوائنٹس کی کمی ماہ مئی میں ہوئی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مانیٹری پالیسی
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔