یورپین کونسل کا امریکی مداخلت قبول کرنے سے صاف انکار
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
یورپین کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا کا کہنا ہے کہ یورپ اپنی سیاست میں کسی بھی قسم کی امریکی مداخلت کو قبول نہیں کرے گا۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یورپین کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا کا برسلز میں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم جو بات قبول نہیں کر سکتے، وہ یورپی سیاست میں مداخلت کی دھمکی ہے۔
صدر یورپین کونسل نے کہا کہ امریکا یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ یورپ میں کون سی سیاسی جماعتیں اچھی ہیں اور کون سی اچھی نہیں ہیں، امریکا یہ بھی طے نہیں کر سکتا کہ یورپ کے نزدیک آزادی اظہار کا کیا تصور ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ اگرچہ ماحولیاتی تبدیلی جیسے مسائل پر ٹرمپ انتظامیہ سے اختلافات پہلے ہی سے موجود تھے، مگر نئی حکمتِ عملی اس سے بھی آگے بڑھ گئی ہے۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ اس حکمتِ عملی میں یورپ کو اتحادی کہا گیا ہے، جو ٹھیک ہے لیکن اگر ہم اتحادی ہیں تو ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ اتحادیوں جیسا سلوک کرنے کی ضرورت ہے۔
امریکا ایک اہم اتحادی ہے، ایک اہم اقتصادی شراکت دار بھی ہے لیکن یورپ کو خودمختار رہنا چاہیے۔
صدر یورپین کونسل نے کہا کہ یہ تشویشناک ہے کہ روس نے امریکا کی نئی حکمتِ عملی کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے اپنے نقطہ نظر سے بڑی حد تک مطابقت رکھنے والی قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکمتِ عملی میں یوکرین کی جنگ کے بارے میں جو مؤقف اپنایا گیا ہے، وہ اس منصفانہ اور پائیدار امن کی حمایت نہیں کرتا جس کی یورپ طویل عرصے سے حمایت کرتا آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ حکمتِ عملی صرف محاذ آرائی کے خاتمے اور روس کے ساتھ استوار تعلقات کی بات کرتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یورپین کونسل نے کہا کہ
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔