خیبرپختونخوا میں مالی بحران شدید، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے اعلانات غیر یقینی کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
خیبر پختونخوا میں مالی مشکلات کے باوجود حکومت کی جانب سے غیر معمولی بڑے منصوبوں کے اعلانات نے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پشاور میں حالیہ جلسے خطاب کرتے ہوئے 5 ہزار بستروں پر مشتمل 100 ارب روپے مالیت کے اسپتال کا اعلان کیا ہے، جسے دنیا کا دوسرا بڑا اسپتال قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس منصوبے کی نہ کوئی فزیبلٹی موجود ہے اور نہ ہی بجٹ میں اس کا کوئی ذکر ملتا ہے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا پشاور میں جلسہ: بہت جلد ڈی چوک جانے کی کال دوں گا، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا اعلان
مبصرین کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی خیبر پختونخوا حکومت ماضی میں بھی بلند و بانگ منصوبوں کے دعوے کرتی رہی ہے جیسے بلین ٹری سونامی ہو یا 350 ڈیموں کا اعلان مگر کئی منصوبے کاغذوں سے آگے نہ بڑھ سکے۔
صوبے میں اس وقت صورتحال یہ ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں تاخیر کا شکار ہیں جبکہ صحت کارڈ پروگرام کے لیے مختص فنڈز بھی ختم ہوچکے ہیں۔
ایسے میں وزیراعلیٰ کی جانب سے اربوں روپے کے ایک اور میگا پراجیکٹ کے اعلان کو ناقدین کی جانب سے محض سیاسی نعرہ قرار دیا جارہا ہے۔
مزید پڑھیں: علی امین گنڈاپور اور سہیل آفریدی میں کیا فرق ہے؟
ان کا کہنا ہے کہ یہ طرزِ حکمرانی نہیں بلکہ وہی پرانی روایت ہے جس میں عوام کو بڑے خواب دکھائے جاتے ہیں جبکہ عملی طور پر صوبہ مالی بحران، ادھورے منصوبوں اور بڑھتے ہوئے قرضوں کا سامنا کرتا رہتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔