وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے اصلاحاتی عزم اور نجی شعبے پر اعتماد کا خیز مقدم
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(بزنس رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلزفورم اورآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، نیشنل بزنس گروپ پاکستان اورایف پی سی سی آئی کی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین اورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے وفاقی وزیرِخزانہ جناب محمد اورنگزیب خان کے حالیہ انٹرویوکوسراہا ہے۔ انہوں نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِخزانہ کی واضح، دو ٹوک معاشی حکمتِ عملی اورنجی شعبے پرمبنی ترقی کے وڑن سے کاروباری برادری کواطمینان حاصل ہوا ہے۔اس وڑن کے مطابق نجی شعبے کا ملک کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ہے۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ وزیرِخزانہ کا یہ بیان کہ “نجی شعبہ معیشت کا انجن ہے، جبکہ حکومت کا کردار اسکو سہولت فراہم کرنا ہے”۔ یہ وہ مؤقف ہے جس کی کاروباری برادری طویل عرصے سے وکالت کررہی ہے۔ عالمی وملکی چیلنجزکے باوجود ملک کی معاشی شرحِ نمومیں بہتری کے لیے وزیرِخزانہ کا اعتماد سرمایہ کاروں کے لیے مثبت پیغام ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِخزانہ کی جانب سے ٹیکس اصلاحات، توانائی شعبے میں بہتری اورسرکاری اداروں (SOEs) کی نجکاری کے عزم کا اعادہ انتہائی حوصلہ افزا ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پرزور دیا کہ ٹیکس نیٹ میں توسیع، بینک مارک اپ میں کمی، اورگردشی قرضوں کے خاتمے کے بغیرکاروباری لاگت میں کمی ممکن نہیں ہے، جو عالمی منڈی میں مسابقت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ معاشی آزادی، برآمدی مسابقت اور “ایسٹ ایشیا مارکیٹ” کے ماڈل کی جانب پیش قدمی ہی پاکستان کے لیے پائیدارترقی کا واحد راستہ ہے۔ کاروباری طبقہ حکومت کی اْن پالیسیوں کی مکمل حمایت کرتا ہے جوماضی کی فرسودہ سوچ سے ہٹ کربرآمدات اورصنعت کاری کوفروغ دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک انفراسٹرکچرکی مونیٹائزیشن، خصوصی اقتصادی زونزکی ترقی، معدنیات، زراعت، آئی ٹی اور فارماسیوٹیکل جیسے کلیدی شعبوں میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے حکومتی اقدامات نجی شعبے کی شمولیت اورترقی لیے شاندارمواقع فراہم کریں گے۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ میکرواکنامک استحکام اہم ہے، مگریہ آخری منزل نہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ استحکام کوحقیقی کاروباری ترقی میں بدلا جائے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ سرخ فیتے کا خاتمہ، توانائی نرخوں میں کمی اورٹیکس نظام کی سادگی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِخزانہ کا بینکاری تجربہ عملی اصلاحات کے نفاذ میں کلیدی کردارادا کرسکتا ہے، اورکاروباری برادری پاکستان کی معاشی کامیابی کے لیے حکومت کے ساتھ تعاون کے لیے تیارہے۔میاں زاہد حسین نے حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پالیسی سازی میں تسلسل اور کاروباری برادری کے ساتھ مشاورت کے ذریعے ہی معیشت کودیرپا خوشحالی کی جانب گامزن کیا جا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میاں زاہد حسین نے کہا کہ وزیر خزانہ کاروباری برادری نے کہا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو ایکسچینجز پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ دوسری طرف ایرانی خبر ایجنسی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے مجوزہ حتمی منصوبے پر اب تک کوئی جواب نہیں بھیجا ہے۔
مہر نیوز کی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی مجوزہ منصوبے پر ایران میں بات چیت جاری ہے، امریکی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایرانی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر، ایران ٹھوس اور حقیقی فوائد حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔