نیپرا کا سی پی پی اے اور نیشنل گرڈ کمپنی پر جرمانہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے سی پی پی اے اور نیشنل گرڈ کمپنی کو مجوعی طور پر 5 کروڑ روپے جرمانہ کر دیا۔
اسلام آباد سے نیپرا کے مطابق دونوں کمپنیوں پر ڈھائی، ڈھائی کروڑ جرمانہ کیا گیا ہے، 2021 میں ملک میں بجلی بلیک آؤٹ کے بعد بلیک اسٹارٹ سہولت کے قیام کی ہدایت کی تھی۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق سی پی پی اے اور نیشنل گرڈ کمپنی کو بلیک اسٹارٹ سہولت مؤثر بنانے کی ہدایت کی جاتی رہی، سی پی پی اے اور نیشنل گرڈ کمپنی میں بلیک اسٹارٹ سہولت مؤثر بنانے میں سست روی پائی گئی۔
نیپرا کے مطابق سی پی پی اے اور نیشنل گرڈ کمپنی کو شوکاز جاری کیے گئے تھے، پاور پلانٹس کے ساتھ بلیک اسٹارٹ سہولت یقینی بنانے کے لیے بروقت اقدامات نہیں کیے گئے، 2022 اور 2023 میں بھی بلیک آؤٹ ہوتے رہے۔
نیپرا کے مطابق بلیک اسٹارٹ سہولت بجلی بلیک آوٹ کے بعد جلد بحالی میں مدد دیتا ہے۔
نیپرا نے کہا کہ سی پی پی اے اور نیشنل گرڈ کمپنی 15 روز میں ڈھائی، ڈھائی کروڑ روپے جرمانہ جمع کرائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سی پی پی اے اور نیشنل گرڈ کمپنی کے مطابق
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔