بھارتی پراکسیز کے سہولت کار
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے دو مختلف اضلاع میں موثر کارروائیاں کرتے ہوئے فتنۃ الخوارج کے 9 جب کہ بلوچستان میں دو آپریشنز میں دہشت گردوں کو جہنم واصل کردیا۔
سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع قلات میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کے دوران 12 بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ مختلف کارروائیوں کے دوران مارے جانے والے 26 دہشت گرد بھارتی سرپرستی یافتہ خوارج تھے جو سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور معصوم شہریوں کے ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے۔ بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
بلاشبہ ریاست کا یہ عزم قابلِ تحسین ہے کہ اب کسی بھی دہشت گرد، سہولت کار یا بیرونی سازشی کو بخشا نہیں جائے گا۔ قانون اپنی پوری طاقت کے ساتھ حرکت میں آئے گا، اور ہر وہ ہاتھ جو پاکستانی لہو سے رنگا ہوا ہے، قانون کی گرفت میں ضرور آئے گا۔ یہ وقت انتقام کا نہیں بلکہ انصاف کا ہے۔
وہ انصاف جو آیندہ نسلوں کے لیے امن کی ضمانت بنے گا۔ دشمن خواہ کتنی ہی کوشش کرے، پاکستان کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتا۔ اس سرزمین کی بنیادوں میں ہمارے شہدا کا خون ہے، اور یہی خون پاکستان کی اصل طاقت ہے۔ ملک اس وقت اندرونی و بیرونی چیلنجز کے ایک پیچیدہ گرداب میں گھرا ہوا ہے، اور اس گرداب کا سب سے خطرناک پہلو وہ دہشت گردی ہے جو ہم برسوں سے جھیل رہے ہیں، اگرچہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دیں، اپنے ہزاروں شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کا لہو اس دھرتی پر نچھاور کیا، لیکن اس کے باوجود دشمن قوتیں اپنے گھناؤنے عزائم سے باز نہیں آئیں۔
حالیہ دہشت گرد حملوں نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ دہشت گردی کا ناسور صرف داخلی نہیں بلکہ اس کی جڑیں بیرونِ ملک تک پھیلی ہوئی ہیں اور ان جڑوں کو پانی دینے والے ہاتھ ہمارے پڑوس میں موجود ہیں۔ ہمارے سیکیورٹی اداروں کی تحقیقات نے اس حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے کہ کئی حالیہ دہشت گرد حملوں میں افغان باشندوں کی شمولیت کے ناقابل تردید شواہد سامنے آئے ہیں۔ یہ بات اب کسی ابہام کی محتاج نہیں رہی کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، اور دہشت گرد وہاں سے منظم ہو کر پاکستان میں داخل ہوتے ہیں، حملے کرتے ہیں، اور پھر واپس اسی جگہ پناہ لیتے ہیں جہاں ان کے سہولت کار اور سرغنے دندناتے پھرتے ہیں۔
یہاں اصل مسئلہ محض چند افراد کا نہیں بلکہ پورے ایک نیٹ ورک کا ہے جو کئی سال سے پاکستان کے امن و استحکام کو نشانہ بنانے میں مصروف ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسیاں اس نیٹ ورک کے پیچھے کھڑی ہیں اور ان کا مقصد واضح ہے: پاکستان کو غیر مستحکم کرنا، اسے اندرونی خلفشار اور خوف میں مبتلا رکھنا، اس کی معاشی رفتار کو روکنا اور اسے عالمی سطح پر کمزور ظاہر کرنا۔ بھارت کی یہ حکمتِ عملی نئی نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ دہلی پاکستان کے خلاف پراکسی جنگوں میں کبھی پیچھے نہیں رہا۔ اب جب کہ خطے میں معاشی تعاون، علاقائی روابط اور ترقیاتی منصوبے زور پکڑ رہے ہیں، بھارت کے لیے یہ منظر ناقابلِ برداشت ہے کہ پاکستان سی پیک جیسے گیم چینجر منصوبے کو کامیابی سے ہمکنار کرے۔
بی ایل اے کی سرگرمیاں کسی سے پوشیدہ نہیں۔ یہ گروہ محض چند باغیوں کا ٹولہ نہیں بلکہ ایک باقاعدہ نیٹ ورک ہے جس کی ڈوریں بھارت کے ہاتھ میں ہیں۔ اس گروہ کی قیادت کئی بار کھلے عام بھارت سے مدد کی درخواست کر چکی ہے اور بھارتی حکومت نے نہ صرف اسے نظر انداز نہیں کیا بلکہ عملی مدد بھی فراہم کی۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت کلبھوشن یادیو کا اعتراف ہے، جس نے بھارتی پراکسی نیٹ ورکس کی حقیقت دنیا کے سامنے بے نقاب کر دی۔
اس نے واضح کر دیا کہ بی ایل اے جیسے گروہ اصل میں بھارت کے تیار کردہ اوزار ہیں جو پاکستان میں دہشت گردی پھیلا کر اس کی ترقیاتی کوششوں کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں، اگر کسی ملک کی سرزمین پر دوسرے ملک کا سرکاری ایجنٹ پکڑا جائے اور وہ خود اعتراف کرے کہ اسے دہشت گردی اور تخریب کاری پر مامور کیا گیا تھا، تو اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت درکار ہے؟پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 86 ہزار سے زائد قیمتی جانیں قربان کی ہیں۔
شاید ہی دنیا کا کوئی ملک اتنی بڑی قیمت ادا کر کے بھی عالمی سطح پر شک کا سامنا کرتا ہو، یا پڑوسی ملکوں کی سازشوں کی زد پر ہو۔ ہم نے بارہا دنیا کو باور کرایا کہ دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ کسی سیاسی یا سفارتی ضرورت کا نتیجہ نہیں بلکہ خالصتاً بقا کی جنگ ہے، ایک مقدس فریضہ ہے جس میں ہم نے اپنے بچوں، اپنے سپاہیوں، اپنے شہریوں، حتیٰ کہ اپنے گھروں کے چراغ تک کھو دیے، لیکن اس کے باوجود آج بھی دشمن ہمیں کمزور سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
بلاشبہ افغانستان کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے یا ان خارجی عناصر کے ساتھ جو خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے عوام کی مدد کی، انھیں پناہ دی، انھیں سہارا دیا، ان کے دکھ سکھ میں شریک رہا، لیکن بدلے میں ہمیں کیا ملا؟ پاکستان کے اندر دہشت گردی، تخریب کاری، منشیات کا فروغ، اسلحے کی اسمگلنگ اور اب حالیہ حملوں میں افغان باشندوں کی شمولیت کے شواہد۔ یہ وہ سنگین مسائل ہیں جن پر افغان حکومت کو سنجیدگی سے غورکرنا ہوگا، اگر افغانستان اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کو لگام نہیں ڈال سکتا، یا ڈالنا نہیں چاہتا، تو پھر پاکستان مجبورا وہ اقدامات کرے گا جو اس کی قومی سلامتی کے لیے ضروری ہوں گے۔
پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کا انخلا اسی تناظر میں ایک بنیادی تقاضا بن چکا ہے۔ لاکھوں افغان افراد، جن میں سے بیشتر کے پاس کوئی قانونی دستاویز نہیں، پاکستان میں برسوں سے رہ رہے ہیں۔ ان میں اکثریت امن پسند اور محنت کش ہے، لیکن چند عناصر ایسے بھی ہیں جو دہشت گرد نیٹ ورکس کے لیے خاموش سہولت کار کا کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف غیر قانونی رہائش کا نہیں، بلکہ قومی سلامتی اور عوامی تحفظ کا ہے۔
جب دشمن قوتیں ان غیر قانونی نیٹ ورکس کے ذریعے اپنی کارروائیاں کرتی ہیں تو ریاست کے پاس انخلا کے سوا کوئی آپشن باقی نہیں رہتا۔ کسی بھی ملک کا یہ حق ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر رہنے والوں کی چھان بین کرے، ان کی قانونی حیثیت کا تعین کرے اور غیر قانونی مقیم افراد کو واپس بھیجے۔ پاکستان کا فیصلہ بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق ہے۔جو عناصر افغانستان اور بھارت کی پراکسیز کے سہولت کار ہیں، یا جو ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں، وہ دراصل دشمن کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
یہ مفروضہ یا غلط فہمی نہیں کہ ایسے لوگ اس ریاست کے خلاف جرم کرتے ہیں جس نے انھیں تحفظ، وسائل اور مواقع فراہم کیے۔ ان کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں ہو سکتا۔ اب ریاست کا پیغام واضح اور دوٹوک ہے کہ دشمن کے ہر سہولت کار کا قانونی محاسبہ ہوگا، چاہے وہ کسی علاقے میں چھپا بیٹھا ہو یا سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا پھیلا رہا ہو۔ پاکستان کے عوام اب مزید دھوکے میں نہیں آئیں گے، کیونکہ انھوں نے بارہا دیکھا ہے کہ دہشت گردی کے ہر بڑے حملے کے پیچھے وہی قوتیں ہوتی ہیں جو خطے میں امن نہیں دیکھنا چاہتیں۔ پاکستان کا مؤقف مضبوط ہے، شواہد واضح ہیں، اور دنیا بتدریج بھارتی پراکسی جنگوں کے خطرناک اثرات کو سمجھنے لگی ہے۔ موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہم اپنے دشمن کو پہچانیں، اپنی صفوں میں موجود سہولت کاروں کو بے نقاب کریں اور ایسی حکمت عملی اختیار کریں جو آیندہ نسلوں کو محفوظ و مضبوط پاکستان دے سکے۔
پاکستان اب اس موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک لمحے کی نرمی یا کوتاہی ہمارے دشمنوں کے لیے فائدہ اور ہمارے لیے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ ہمیں اپنی سرحدوں، اپنے شہریوں، اور اپنے مستقبل کی حفاظت کے لیے سخت مگر ضروری فیصلے کرنا ہوں گے۔افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہماری خواہش ہیں، لیکن تعلقات یک طرفہ نہیں ہو سکتے۔ اگر افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے نہیں روک سکتا، تو پھر ہمیں اپنی حکمت عملی کو ازسرنو ترتیب دینا ہوگا۔ پڑوسی وہی اچھا ہوتا ہے جو امن چاہے، تعاون کرے، اور خطے کو ترقی کی راہ پر گامزن دیکھنا چاہے۔
وہ پڑوسی جو دشمن قوتوں کا آلہ کار بنے، ہمارے لیے مستقل خطرہ بن جاتا ہے۔دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ریاست نے جو عزم دکھایا ہے وہ قابلِ فخر ہے۔ ہماری افواج، پولیس، لیویز اور خفیہ اداروں نے جس پیشہ ورانہ مہارت اور قربانی کا مظاہرہ کیا، وہ دنیا کے لیے مثال ہے۔ لیکن یہ لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی۔
دشمن اب بھی پوری قوت سے حملہ آور ہے، اور ہمیں بھی پوری قوت سے جواب دینا ہوگا۔ پاکستان ایک بار پھر تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ دشمن کی چالیں پیچیدہ ہیں، لیکن پاکستان کا عزم ان سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ ہمیں بطور قوم متحد ہونا ہے، دشمن کو بے نقاب کرنا ہے، اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنی ہے، اور دنیا کو یہ بتانا ہے کہ پاکستان نہ دبنے والا ملک ہے نہ جھکنے والا۔ یہ قوم جب بھی مشکل وقت میں اٹھی ہے، سرخرو ہوئی ہے، اور یہ سفر ابھی بھی اسی حوصلے کے ساتھ جاری رہے گا۔ ہر پاکستانی کا قرض ہے کہ ہم دشمن کو اس کی زبان میں جواب دیں اور اس وطن کو امن و استحکام کا گہوارہ بنائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دہشت گردی کے پاکستان میں پاکستان کے نہیں بلکہ سہولت کار کرتے ہیں نیٹ ورکس رہے ہیں کے خلاف کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
گزشتہ ماہ 15 مئی کو بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک سماعت کے دوران جعلی ڈگریوں کے ذریعے مختلف پیشوں میں آ جانے والے لوگوں کو پیراسائٹس قرار دیا تو ان کے اِس بیان نے نہ صرف سوشل میڈیا پر ایک بحث کو جنم دیا بلکہ ایک سیاسی جماعت بھی قائم ہوگئی جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔
گوکہ بعد میں بھارتی چیف جسٹس کانت نے وضاحت کی کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ان کا ہدف تمام بے روزگار نوجوان نہیں تھے بلکہ مخصوص افراد تھے جنہوں نے جعلی اسناد کے ذریعے پیشہ ورانہ شعبوں میں جگہ بنائی لیکن بیان پر آنے والا عوامی ردعمل کم نہیں ہوا۔
مزید پڑھیں: کاکروچ جنتا پارٹی: اکاؤنٹس ہیک، اہلخانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے، بانی بھارتی جین زی اکاؤنٹ
بھارتی حکومت کی جانب سے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات ’کاؤنٹر پروڈکٹو‘ ثابت ہو رہے ہیں۔
بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کو محدود کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن یہ اقدامات جین زی کو پارٹی سے زیادہ جوڑ رہے ہیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی کیسے بنی؟بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت کے ریمارکس کے ردعمل میں امریکا میں مقیم بھارتی طالب علم اور تعلقاتِ عامہ کے ماہر ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ سیاسی پلیٹ فارم قائم کیا جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔
ابتدائی طور پر یہ ایک مزاحیہ اور طنزیہ مہم تھی، لیکن چند ہی دنوں میں لاکھوں نوجوان اس میں شامل ہوگئے۔ پارٹی نے اپنے آپ کو بے روزگار، آن لائن رہنے والے اور نظام سے مایوس نوجوانوں کی آواز کے طور پر پیش کیا اور اس کا مقصد روایتی سیاست کا مذاق اڑانا تھا۔
نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا غم و غصہ بی جے پی کے سوشل میڈیا پر غلبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت جس طرح اصل مسائل سے صرفِ نظر کرتے ہوئے تمام مسائل کو مذہب سے جوڑتی چلی آئی ہے اور جس طرح سے اس نے نوجوانوں کی بے روزگاری اور تعلیمی مسائل کو قالین کے نیچے چھپانے کی کوشش کی ہے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی مقبولیت نے تمام مفروضے غلط ثابت کر دیے ہیں۔
بھارتی سوشل میڈیا جو زیادہ تر وہاں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے غلبے میں ہے اور جہاں بی جے پی پر تنقید کو ہندوؤں پر تنقید سے تعبیر کرکے ٹرولنگ اور نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ایسے ماحول کے اندر کاکروچ جنتا پارٹی کا بی جے پی کے سوشل میڈیا غلبے کو توڑنا ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اب تک کیا کچھ کر چُکی ہے؟’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے قیام کے بعد محض 2 ہفتوں کے اندر یہ ایک سوشل میڈیا مذاق یا میم مہم سے بڑھ کر ایک قابلِ ذکر سیاسی و سماجی فِنامنا بن گئی ہے۔ لاکھوں نوجوانوں نے آن لائن اس کی رکنیت اختیار کی جبکہ انسٹاگرام، ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز پر اس کے صفحات نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔
چند ہی دنوں میں اس کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی جو تاحال ایک غیر منظم تحریک کی شکل میں موجود ہے اس نے بے روزگاری، نوکریوں کے لیے مقابلے کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک اسکینڈلز، مہنگائی اور نوجوانوں کے معاشی مسائل کو اپنی مہم کا مرکزی موضوع بنایا۔
حکومت کی جانب سے اس کے ایکس اکاؤنٹ کو بھارت میں محدود یا معطل کیے جانے کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا اور اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، جس کے نتیجے میں آزادیِ اظہار اور سوشل میڈیا سنسرشپ پر نئی بحث چھڑ گئی۔
ادھر دہلی، ممبئی، پونے، بنگلورو اور دیگر شہروں میں نوجوانوں نے علامتی احتجاجی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جہاں بعض شرکا نے کاکروچ کے ماسک اور ملبوسات پہن کر خود کو اس متنازع اصطلاح سے منسلک کیا جس نے اس تحریک کو جنم دیا تھا۔
تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت واپسی کی صورت میں انہیں قانونی کارروائی یا گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس تمام عرصے میں کاکروچ جنتا پارٹی نے نوجوان نسل کے سوالات کو ایک منظم اور نمایاں ڈیجیٹل آواز فراہم کردی، جس کے باعث یہ معاملہ اب محض ایک طنزیہ مہم نہیں بلکہ بھارت کے سیاسی مباحثے کا اہم موضوع بن چکا ہے۔
کیا کاکروچ جنتا پارٹی واقعی سیاسی قوت بن سکتی ہے؟پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 6 جون کو بھارت واپسی اور جنتر منتر (دہلی میں احتجاجات کے لیے معروف مقام) پر احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے جو وزیرِ تعلیم کے استعفیٰ کے لیے دیا جائے گا۔
2011-12 میں بھارتی سماجی کارکن انا ہزارے نے بھی جنتر منتر پر دھرنا دیا تھا جس کا مقصد کرپشن کے خلاف لوک پال بِل (قانون سازی) کی منظوری تھا جس میں وہ کامیاب رہے لیکن انا ہزارے نے اپنی تحریک کو سیاسی تحریک نہیں بنایا تھا، تاہم ان کی جماعت کے ایک سرکردہ رہنما اروند کیجریوال نے بعدازاں ایک سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی کی بنیاد رکھی جس نے پہلے دہلی اور اب بھارتی پنجاب میں حکومت بنا رکھی ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اپنی مقبولیت کے باعث کوئی سیاسی جماعت قائم کر سکے گی یا نہیں اس پر بھارت کے سیاسی مبصرین منقسم ہیں۔
بعض تجزیہ کاروں کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی صرف ایک ’میم موومنٹ‘ ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ اس کے پاس نہ تنظیمی ڈھانچہ ہے، نہ مقامی قیادت اور نہ ہی کوئی واضح انتخابی حکمت عملی۔
مزید پڑھیں: کاکروچ جنتاپارٹی کا بھارتی وزیرِ تعلیم کیخلاف احتجاج کا اعلان
دوسری جانب کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی اصل اہمیت انتخابات میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ اس نے نوجوانوں کی ناراضی کو منظم شکل دے دی ہے۔ یہ تحریک شاید خود سیاسی جماعت نہ بن سکے، لیکن اس نے بھارتی سیاست کو یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ سوشل میڈیا کی نئی نسل روایتی نعروں سے مطمئن نہیں ہوتی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بھارت بھارتی چیف جسٹس حکومت کے لیے چیلنج سوشل میڈیا مہم کاکروچ جنتا پارٹی وی نیوز