Express News:
2026-07-24@02:11:02 GMT

بھارتی پراکسیز کے سہولت کار

اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT

سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے دو مختلف اضلاع میں موثر کارروائیاں کرتے ہوئے فتنۃ الخوارج کے 9 جب کہ بلوچستان میں دو آپریشنز میں دہشت گردوں کو جہنم واصل کردیا۔

سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع قلات میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کے دوران 12 بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ مختلف کارروائیوں کے دوران مارے جانے والے 26 دہشت گرد بھارتی سرپرستی یافتہ خوارج تھے جو سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور معصوم شہریوں کے ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے۔ بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔

 بلاشبہ ریاست کا یہ عزم قابلِ تحسین ہے کہ اب کسی بھی دہشت گرد، سہولت کار یا بیرونی سازشی کو بخشا نہیں جائے گا۔ قانون اپنی پوری طاقت کے ساتھ حرکت میں آئے گا، اور ہر وہ ہاتھ جو پاکستانی لہو سے رنگا ہوا ہے، قانون کی گرفت میں ضرور آئے گا۔ یہ وقت انتقام کا نہیں بلکہ انصاف کا ہے۔

وہ انصاف جو آیندہ نسلوں کے لیے امن کی ضمانت بنے گا۔ دشمن خواہ کتنی ہی کوشش کرے، پاکستان کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتا۔ اس سرزمین کی بنیادوں میں ہمارے شہدا کا خون ہے، اور یہی خون پاکستان کی اصل طاقت ہے۔ ملک اس وقت اندرونی و بیرونی چیلنجز کے ایک پیچیدہ گرداب میں گھرا ہوا ہے، اور اس گرداب کا سب سے خطرناک پہلو وہ دہشت گردی ہے جو ہم برسوں سے جھیل رہے ہیں، اگرچہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دیں، اپنے ہزاروں شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کا لہو اس دھرتی پر نچھاور کیا، لیکن اس کے باوجود دشمن قوتیں اپنے گھناؤنے عزائم سے باز نہیں آئیں۔

حالیہ دہشت گرد حملوں نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ دہشت گردی کا ناسور صرف داخلی نہیں بلکہ اس کی جڑیں بیرونِ ملک تک پھیلی ہوئی ہیں اور ان جڑوں کو پانی دینے والے ہاتھ ہمارے پڑوس میں موجود ہیں۔ ہمارے سیکیورٹی اداروں کی تحقیقات نے اس حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے کہ کئی حالیہ دہشت گرد حملوں میں افغان باشندوں کی شمولیت کے ناقابل تردید شواہد سامنے آئے ہیں۔ یہ بات اب کسی ابہام کی محتاج نہیں رہی کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، اور دہشت گرد وہاں سے منظم ہو کر پاکستان میں داخل ہوتے ہیں، حملے کرتے ہیں، اور پھر واپس اسی جگہ پناہ لیتے ہیں جہاں ان کے سہولت کار اور سرغنے دندناتے پھرتے ہیں۔

یہاں اصل مسئلہ محض چند افراد کا نہیں بلکہ پورے ایک نیٹ ورک کا ہے جو کئی سال سے پاکستان کے امن و استحکام کو نشانہ بنانے میں مصروف ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسیاں اس نیٹ ورک کے پیچھے کھڑی ہیں اور ان کا مقصد واضح ہے: پاکستان کو غیر مستحکم کرنا، اسے اندرونی خلفشار اور خوف میں مبتلا رکھنا، اس کی معاشی رفتار کو روکنا اور اسے عالمی سطح پر کمزور ظاہر کرنا۔ بھارت کی یہ حکمتِ عملی نئی نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ دہلی پاکستان کے خلاف پراکسی جنگوں میں کبھی پیچھے نہیں رہا۔ اب جب کہ خطے میں معاشی تعاون، علاقائی روابط اور ترقیاتی منصوبے زور پکڑ رہے ہیں، بھارت کے لیے یہ منظر ناقابلِ برداشت ہے کہ پاکستان سی پیک جیسے گیم چینجر منصوبے کو کامیابی سے ہمکنار کرے۔

بی ایل اے کی سرگرمیاں کسی سے پوشیدہ نہیں۔ یہ گروہ محض چند باغیوں کا ٹولہ نہیں بلکہ ایک باقاعدہ نیٹ ورک ہے جس کی ڈوریں بھارت کے ہاتھ میں ہیں۔ اس گروہ کی قیادت کئی بار کھلے عام بھارت سے مدد کی درخواست کر چکی ہے اور بھارتی حکومت نے نہ صرف اسے نظر انداز نہیں کیا بلکہ عملی مدد بھی فراہم کی۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت کلبھوشن یادیو کا اعتراف ہے، جس نے بھارتی پراکسی نیٹ ورکس کی حقیقت دنیا کے سامنے بے نقاب کر دی۔

اس نے واضح کر دیا کہ بی ایل اے جیسے گروہ اصل میں بھارت کے تیار کردہ اوزار ہیں جو پاکستان میں دہشت گردی پھیلا کر اس کی ترقیاتی کوششوں کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں، اگر کسی ملک کی سرزمین پر دوسرے ملک کا سرکاری ایجنٹ پکڑا جائے اور وہ خود اعتراف کرے کہ اسے دہشت گردی اور تخریب کاری پر مامور کیا گیا تھا، تو اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت درکار ہے؟پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 86 ہزار سے زائد قیمتی جانیں قربان کی ہیں۔

شاید ہی دنیا کا کوئی ملک اتنی بڑی قیمت ادا کر کے بھی عالمی سطح پر شک کا سامنا کرتا ہو، یا پڑوسی ملکوں کی سازشوں کی زد پر ہو۔ ہم نے بارہا دنیا کو باور کرایا کہ دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ کسی سیاسی یا سفارتی ضرورت کا نتیجہ نہیں بلکہ خالصتاً بقا کی جنگ ہے، ایک مقدس فریضہ ہے جس میں ہم نے اپنے بچوں، اپنے سپاہیوں، اپنے شہریوں، حتیٰ کہ اپنے گھروں کے چراغ تک کھو دیے، لیکن اس کے باوجود آج بھی دشمن ہمیں کمزور سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

بلاشبہ افغانستان کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے یا ان خارجی عناصر کے ساتھ جو خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے عوام کی مدد کی، انھیں پناہ دی، انھیں سہارا دیا، ان کے دکھ سکھ میں شریک رہا، لیکن بدلے میں ہمیں کیا ملا؟ پاکستان کے اندر دہشت گردی، تخریب کاری، منشیات کا فروغ، اسلحے کی اسمگلنگ اور اب حالیہ حملوں میں افغان باشندوں کی شمولیت کے شواہد۔ یہ وہ سنگین مسائل ہیں جن پر افغان حکومت کو سنجیدگی سے غورکرنا ہوگا، اگر افغانستان اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کو لگام نہیں ڈال سکتا، یا ڈالنا نہیں چاہتا، تو پھر پاکستان مجبورا وہ اقدامات کرے گا جو اس کی قومی سلامتی کے لیے ضروری ہوں گے۔

پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کا انخلا اسی تناظر میں ایک بنیادی تقاضا بن چکا ہے۔ لاکھوں افغان افراد، جن میں سے بیشتر کے پاس کوئی قانونی دستاویز نہیں، پاکستان میں برسوں سے رہ رہے ہیں۔ ان میں اکثریت امن پسند اور محنت کش ہے، لیکن چند عناصر ایسے بھی ہیں جو دہشت گرد نیٹ ورکس کے لیے خاموش سہولت کار کا کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف غیر قانونی رہائش کا نہیں، بلکہ قومی سلامتی اور عوامی تحفظ کا ہے۔

جب دشمن قوتیں ان غیر قانونی نیٹ ورکس کے ذریعے اپنی کارروائیاں کرتی ہیں تو ریاست کے پاس انخلا کے سوا کوئی آپشن باقی نہیں رہتا۔ کسی بھی ملک کا یہ حق ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر رہنے والوں کی چھان بین کرے، ان کی قانونی حیثیت کا تعین کرے اور غیر قانونی مقیم افراد کو واپس بھیجے۔ پاکستان کا فیصلہ بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق ہے۔جو عناصر افغانستان اور بھارت کی پراکسیز کے سہولت کار ہیں، یا جو ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں، وہ دراصل دشمن کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

یہ مفروضہ یا غلط فہمی نہیں کہ ایسے لوگ اس ریاست کے خلاف جرم کرتے ہیں جس نے انھیں تحفظ، وسائل اور مواقع فراہم کیے۔ ان کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں ہو سکتا۔ اب ریاست کا پیغام واضح اور دوٹوک ہے کہ دشمن کے ہر سہولت کار کا قانونی محاسبہ ہوگا، چاہے وہ کسی علاقے میں چھپا بیٹھا ہو یا سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا پھیلا رہا ہو۔ پاکستان کے عوام اب مزید دھوکے میں نہیں آئیں گے، کیونکہ انھوں نے بارہا دیکھا ہے کہ دہشت گردی کے ہر بڑے حملے کے پیچھے وہی قوتیں ہوتی ہیں جو خطے میں امن نہیں دیکھنا چاہتیں۔ پاکستان کا مؤقف مضبوط ہے، شواہد واضح ہیں، اور دنیا بتدریج بھارتی پراکسی جنگوں کے خطرناک اثرات کو سمجھنے لگی ہے۔ موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہم اپنے دشمن کو پہچانیں، اپنی صفوں میں موجود سہولت کاروں کو بے نقاب کریں اور ایسی حکمت عملی اختیار کریں جو آیندہ نسلوں کو محفوظ و مضبوط پاکستان دے سکے۔

پاکستان اب اس موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک لمحے کی نرمی یا کوتاہی ہمارے دشمنوں کے لیے فائدہ اور ہمارے لیے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ ہمیں اپنی سرحدوں، اپنے شہریوں، اور اپنے مستقبل کی حفاظت کے لیے سخت مگر ضروری فیصلے کرنا ہوں گے۔افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہماری خواہش ہیں، لیکن تعلقات یک طرفہ نہیں ہو سکتے۔ اگر افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے نہیں روک سکتا، تو پھر ہمیں اپنی حکمت عملی کو ازسرنو ترتیب دینا ہوگا۔ پڑوسی وہی اچھا ہوتا ہے جو امن چاہے، تعاون کرے، اور خطے کو ترقی کی راہ پر گامزن دیکھنا چاہے۔

وہ پڑوسی جو دشمن قوتوں کا آلہ کار بنے، ہمارے لیے مستقل خطرہ بن جاتا ہے۔دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ریاست نے جو عزم دکھایا ہے وہ قابلِ فخر ہے۔ ہماری افواج، پولیس، لیویز اور خفیہ اداروں نے جس پیشہ ورانہ مہارت اور قربانی کا مظاہرہ کیا، وہ دنیا کے لیے مثال ہے۔ لیکن یہ لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی۔

دشمن اب بھی پوری قوت سے حملہ آور ہے، اور ہمیں بھی پوری قوت سے جواب دینا ہوگا۔ پاکستان ایک بار پھر تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ دشمن کی چالیں پیچیدہ ہیں، لیکن پاکستان کا عزم ان سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ ہمیں بطور قوم متحد ہونا ہے، دشمن کو بے نقاب کرنا ہے، اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنی ہے، اور دنیا کو یہ بتانا ہے کہ پاکستان نہ دبنے والا ملک ہے نہ جھکنے والا۔ یہ قوم جب بھی مشکل وقت میں اٹھی ہے، سرخرو ہوئی ہے، اور یہ سفر ابھی بھی اسی حوصلے کے ساتھ جاری رہے گا۔ ہر پاکستانی کا قرض ہے کہ ہم دشمن کو اس کی زبان میں جواب دیں اور اس وطن کو امن و استحکام کا گہوارہ بنائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: دہشت گردی کے پاکستان میں پاکستان کے نہیں بلکہ سہولت کار کرتے ہیں نیٹ ورکس رہے ہیں کے خلاف کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

نتیجہ خیز آپریشن شعبان!

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔

پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔

گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟

پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔

 بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار