امریکا اور بحرین کا مشترکہ فضائی دفاعی کمانڈ پوسٹ کا افتتاح
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
امریکی سینٹرل کمانڈ اور بحرین نے پیر کے روز ال بار کیمپ میں دو طرفہ مشترکہ فضائی دفاعی کمانڈ پوسٹ کا افتتاح کر دیا۔
یہ اقدام اُس وقت سامنے آیا ہے جب صرف ایک ماہ قبل امریکا نے قطر کے ساتھ بھی اسی نوعیت کا تعاون شروع کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں امریکا کے جنگی اثاثے کیا ہیں اور کہاں کہاں موجود ہیں؟
سینٹ کام کے مطابق، اس مرکز میں امریکا اور بحرین کی فورسز مشترکہ طور پر خدمات انجام دیں گی اور یہ مقام فضائی دفاع کی مربوط منصوبہ بندی اور آپریشنز کا مرکزی مرکز ہوگا۔
His Royal Highness the Crown Prince, Deputy Supreme Commander of the Armed Forces and Prime Minister, #Salman_bin_Hamad Al Khalifa, attends the Combined Command Post Opening Ceremony at Ras Al Bar Camp, held under His patronage.
The Post is established as a result of the solid… pic.twitter.com/VDs9mn7YRN
— أخبار سمو ولي العهد (@BahrainCPnews) December 1, 2025
امریکا کے غیر نیٹو اتحادی ہونے کے ناطے بحرین پہلے ہی امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ اور 47 ممالک پر مشتمل مشترکہ میری ٹائم فورسز کی میزبانی کرتا ہے۔
ملک میں اس وقت تقریباً 9 ہزار امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں۔
افتتاحی تقریب میں سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر اور بحرین کے ولی عہد و وزیراعظم سلمان بن حمد آل خلیفہ نے شرکت کی۔
مزید پڑھیں:امریکا اور برطانیہ کے یمن میں حوثی ملیشیا کے 36 ٹھکانوں پر حملے
ایڈمرل کوپر نے اس موقع پر کہا کہ علاقائی سیکیورٹی کے لیے بحرین کئی دہائیوں سے امریکا کا لازمی شراکت دار رہا ہے۔
’نئی مشترکہ کمانڈ پوسٹ فضائی دفاع کے علاقائی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔‘
جوہری تعاون معاہدہگزشتہ جولائی میں امریکا اور بحرین نے جوہری توانائی کے شعبے میں تعاون سے متعلق ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔
اس موقع پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، بحرینی وزیر خارجہ ال زیانی، صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شہزادہ سلمان بن حمد نے بھی شرکت کی۔
قطر کے ساتھ دوسرا کمانڈ پوسٹیہ مشرق وسطیٰ میں سینٹ کام کا دوسرا 2 طرفہ فضائی دفاعی کمانڈ پوسٹ ہے۔
اس سے قبل 3 نومبر کو امریکا اور قطر نے العديد ایئر بیس پر ایک مشترکہ پوسٹ قائم کی تھی، جہاں 10 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔
سینٹ کام کا دائرہ اختیارفلوریڈا کے میک ڈِل ایئر فورس بیس میں قائم سینٹ کام امریکا کی محکمہ دفاع کی 11 مشترکہ کمانڈز میں سے ایک ہے، جس کا دائرہ اختیار 21 ممالک پر مشتمل ہے، جن میں عراق، ایران، سعودی عرب، افغانستان، پاکستان، شام، اردن اور مصر شامل ہیں۔
یہ کمانڈ آرمی، نیوی، ایئر فورس، میرین کور اور اسپیس فورس کے اہلکاروں پر مشتمل ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد ایئر پورٹ: بحرین جانے والے مسافر کے ٹرالی بیگ سے 2 کلو 8 سو 36 گرام آئس برآمد
1983 میں قیام کے بعد سے سینٹ کام نے متعدد بڑے آپریشنز کی قیادت کی ہے، جن میں آپریشن ڈیزرٹ اسٹورم (1991)، افغان جنگ (2001–2021)، عراق جنگ (2023) اور داعش کے خلاف ’آپریشن انہیرنٹ ریزولو‘ (2014) شامل ہیں۔
حالیہ برسوں میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے دوران بھی سینٹ کام نے کلیدی کردار ادا کیا۔
حوثیوں کے خلاف مشترکہ اقداماتامریکا اور بحرین اُن ممالک میں شامل تھے جنہوں نے دسمبر 2023 میں ’آپریشن پراسپیرٹی گارڈین‘ کا آغاز کیا، جس کا مقصد یمن میں حوثی باغیوں کی جانب سے بحری جہاز رانی پر حملوں کا جواب دینا تھا۔
اس اتحاد میں کینیڈا، فرانس، اٹلی، نیدرلینڈز، ناروے، سیشلز اور اسپین بھی شامل تھے۔
اپریل میں برطانوی افواج نے بھی یمن میں ایک حوثی ہدف پر امریکی افواج کے ساتھ مشترکہ کارروائی میں حصہ لیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آپریشن ڈیزرٹ اسٹورم العديد ایئر بیس امریکا ایئر فورس ایران بحرین پاکستان سعودی عرب سینٹ کام عراق قطر محکمہ دفاع
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آپریشن ڈیزرٹ اسٹورم العديد ایئر بیس امریکا ایئر فورس ایران پاکستان سینٹ کام محکمہ دفاع امریکا اور بحرین کمانڈ پوسٹ فضائی دفاع سینٹ کام
پڑھیں:
امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لندن (آئی پی ایس )امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کے لیے برطانوی ائیربیس کے استعمال پر ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی دی ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق نئے وزیراعظم اینڈی برنہم کے عہدہ سنبھالنیکے بعد امریکی فوج نے گلوسیسٹرشائر میں واقع رائل ائیر فورس کے آر اے ایف فیئرفورڈ فضائی اڈے سے ایران کے خلاف B-1 اسٹریٹجک بمبار طیاروں سے بمباری کی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اس حملے میں امریکی طیاروں نے ایران عراق سرحدی علاقے شلمچہ بارڈرکراسنگ کو نشانہ بنایا جس میں 2 افراد شہید اور 11 زخمی ہوئے۔ ایران نے اس کے جواب میں آنکھ کے بدلے آنکھ کی بنیاد پر جوابی کارروائیوں کی دھمکی دی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نیکہا کہ ہماری دفاعی پالیسی واضح ہے، آنکھ کے بدلے آنکھ۔ جو لوگ کسی بھی قسم کی مدد کے ذریعے ایران کیخلاف جارحیت میں شریک ہوں گے، انہیں بھی جائز ہدف سمجھا جائیگا۔اب ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی طیاروں کے برطانوی فضائی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو خبردار کیا ہے۔
پاسداران انقلاب کا کہنا ہیکہ حالیہ کارروائیوں میں امریکی افواج نے ابتدا میں بحر ہند میں موجود بحری جہازوں سے کروز میزائل داغے اور جب ان کے ذخائر کم ہوگئے تو برطانیہ کے آر اے ایف فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہیکہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز فوجی ہدف سمجھا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا اگلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم