سیکیورٹی فورسز کا قلات میں آپریشن، بھارتی سرپرستی یافتہ 12 دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
فائل فوٹو
سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے علاقے قلات میں آپریشن کرتے ہوئے بھارتی سرپرستی یافتہ 12 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن میں فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور بارودی مواد بھی برآمد کیا گیا۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق ہلاک دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث تھے، کسی بھی دیگر بھارتی سرپرست دہشت گرد کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں خفیہ اطلاع پر آپریشن کیا ہے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ عزم استحکام کے تحت سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مہم جاری رہے گی تاکہ بیرونی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جاسکے۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے قلات میں فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائی پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ عزم استحکام کے وژن کے تحت سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل کررہی ہیں، دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پوری قوم افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے اور ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے کے خلاف
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔