قلات میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، فتنہ الہندوستان کے 12دہشت گرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
بلوچستان کے ضلع قلات میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع کی بنیاد پر بھارتی پراکسی تنظیم فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کیخلاف ایک کامیاب آپریشن کرتے ہوئے 12 بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد ہلاک کردیے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق 6 دسمبر کو کی گئی اس کارروائی کے دوران فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد تمام مطلوب دہشت گردوں کا خاتمہ کر دیا۔
*ISPR*
*Rawalpindi, 07 December, 2025:*
On 06 December 2025, security forces conducted an intelligence based operation in Kalat District of Balochistan, on reported presence of terrorists belonging to Indian proxy, Fitna al Hindustan.
During the conduct of operation, own forces… pic.twitter.com/ZL4nHJ3fRc
— Tayyab Gondal (@TayybGondal) December 7, 2025
ہلاک دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث رہے تھے۔ آپریشن کے مقام سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا ہے۔
مزید بتایا گیا کہ علاقے کو مکمل طور پر کلیئر کرنے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے۔
ترجمان کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے وفاقی ایپیکس کمیٹی کے منظور شدہ وژن ’عزم استحکام‘ کے تحت بھرپور رفتار سے انسدادِ دہشت گردی کی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کا مقصد ملک سے بیرونی معاونت یافتہ اور سرپرستی شدہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آپریشن ایپیکس کمیٹی سیکیورٹی فورسز عزم استحکام فتنہ الہندوستان قلات
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز عزم استحکام فتنہ الہندوستان قلات سیکیورٹی فورسز
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔