قلات: فورسز کا آپریشن، بھارتی حمایت یافتہ 12 خوارج ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
اسلام آباد‘راولپنڈی‘بنوں (خبر نگار خصوصی +اپنے سٹاف رپورٹر سے +این این آئی+نوائے وقت رپورٹ)سکیورٹی فورسز کی جانب سے بلوچستان کے علاقے قلات میں آپریشن کے دور ان بھارتی سرپرستی یافتہ 12 دہشت گردمارے گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن میں فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا‘ ہلاک دہشتگردوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور بارودی مواد بھی برآمد کیا گیا۔ترجمان پاک فوج کے مطابق ہلاک دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث تھے‘ کسی بھی دیگر بھارتی سرپرست دہشت گرد کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن تیز کر دیا گیا ۔آئی ایس پی آر کے مطابق عزم استحکام کے تحت سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مہم جاری رہے گی تاکہ بیرونی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جاسکے۔ صدر زرداری ‘ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیرداخلہ نے قلات میں فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائی پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عزم استحکام کے وژن کے تحت سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل کررہی ہیں۔ عزم استحکام کے وژن کے تحت سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل کررہی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پوری قوم افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے اور ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پْرعزم ہیں۔بنوں کے علاقے ممند خیل میں نامعلوم مسلح افراد نے رابطہ پل کو بارودی مواد سے اڑا دیا جس سے لوگوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پولیس کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے رات کی تاریکی میں ممند خیل میں رابطہ پل کے نیچے بارودی مواد نصب کیا تھا جو زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے سے پل کو نقصان پہنچا ہے جس کے باعث لوگوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا ہے۔ بنوں میں تھانہ احمد زئی پر نا معلوم افراد نے حملہ کردیا، فائرنگ سے ایڈیشنل ایس ایچ او زخمی ہوگئے۔ زخمی ایس ایچ او حسن الماب خلیفہ گل نواز کو ہسپتال منتقل کردیا گیا۔کریم پولیس چیک پوسٹ خیبر پر دستی بم حملہ کیا گیا۔پولیس کے مطابق چیک پوسٹ کوجزوی نقصان پہنچا ‘پولیس اہلکار محفوظ رہے ‘ حملے کے بعد دہشتگرد فرار ہوگئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: دہشت گردی کے خلاف سکیورٹی فورسز کے مطابق
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔