سنہ1975  میں ایک نوجوان انجینیئر اسٹیو ساسن نے ایسٹ مین کوڈک میں ہینڈ ہیلڈ ڈیجیٹل کیمرا سے پہلی تصویر کھینچی اور اس وقت سے فوٹوگرافی کی دنیا بدل دی۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق جب اسٹیو ساسن نے ایسٹ مین کوڈک میں کام شروع کیا تھا تو کمپنی امریکی فوٹوگرافک فلم بنانے والی کمپنی امریکی صنعتی مہارت کی علامت تھی۔

سنہ1870  کی دہائی میں جارج ایسٹ مین نے اس کمپنی کی بنیاد رکھی اور کوڈک نے فلم فوٹوگرافی کو عام لوگوں تک پہنچایا۔ لوگ کوڈک فلم خریدتے، کوڈک کیمرے میں لگاتے اور کوڈک کی فوٹوگرافک پیپر پر پرنٹ تیار کرتے۔

ساسن کا آغاز اور خیال

الیکٹریکل انجینیئر 23 سالہ ساسن فلمی کیمرے کے روایتی عمل سے مطمئن نہیں تھے۔ انہوں نے سوچا کہ اگر ہم سب کچھ الیکٹرانک طور پر کر سکیں؟ تصویر الیکٹرانک طور پر محفوظ ہو اور فلم کی ضرورت نہ ہو؟

ڈیجیٹل امیجنگ کی بنیادیں

سنہ1969  میں بیل لیبارٹریز نے چارج کپلڈ ڈیوائس ایجاد کی جو روشنی کو الیکٹرانک سگنل میں بدل سکتی تھی۔ سنہ 1974 تک فیئرچائلڈ سیمی کنڈکٹرز نے پہلی تجارتی چارج کپلڈ ڈیوائس بنائی جس کا سائز 100 x 100 پکسلز تھا۔

ساسن نے اس نئی ٹیکنالوجی میں دلچسپی لی اور سوچا کہ اسے استعمال کر کے فلم کے بغیر کیمرا بنایا جا سکتا ہے۔

کیمرے کی تیاری

ساسن نے ایک اوور سائز ٹوسٹر نما کیمرہ بنایا۔ اس میں چارج کپلڈ ڈیوائس، لینس اور آڈیو کسٹ ڈیک استعمال کیا گیا تاکہ ڈیجیٹل سگنل محفوظ ہو سکے۔ کیمرا 8 پاؤنڈ (3.

6 کلوگرام) وزنی تھا لیکن پھر بھی پورٹیبل تھا۔

پہلی تصویر

ساسن نے پہلی تصویر اپنے ساتھی جوی مارشل کی کھینچی۔ تصویر 1/20 سیکنڈ میں کی گئی، اور 23 سیکنڈ میں کیسٹ ڈیک پر محفوظ ہوئی۔ جب اسے ٹی وی پر دیکھا گیا تو تصویر کی ہیئر اور پس منظر تو نظر آئے مگر چہرہ مکمل طور پر مبہم تھا۔ بعد میں وائرنگ میں معمولی تبدیلی سے تصویر صاف دکھائی دینے لگی۔

ساسن کے مطابق پہلی تصویر لی گئی اور اس لمحے سے فوٹوگرافی کی دنیا بدل گئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

تصویری دنیا میں انقلاب ڈیجیٹل فوٹوگرافی ڈیجیٹل کیمرا فوٹوگرافی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: تصویری دنیا میں انقلاب ڈیجیٹل کیمرا فوٹوگرافی پہلی تصویر

پڑھیں:

پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع

حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔

ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔

سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع