کراچی:

کراچی سے اربوں روپے کا ریونیو حاصل کرنے کا ایک اور منصوبہ بنالیا گیا، ادارہ ترقیات کراچی نے غیر اعلانیہ ٹارگیٹیڈ کارروائیوں کی تیاریاں مکمل کرلیں، تبدیلی استعمال اراضی پر شہر کے ہزاروں پلاٹوں کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا گیا، افسران نے شہر میں بڑی کارروائی کیلئے نوٹسز کا ڈرافٹ تیار کرنا شروع کردیا، مس یوز آف پلاٹس پر شروع کی جانے والی کارروائیوں کے لیے افسران نے تیاری کرلی ہے، ممبر ایڈ منسٹریشن کی نگرانی میں نوٹسز کا ڈرافٹ اور آپریشن کا لائحہ عمل طے کیا جارہا ہے۔

انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق ادارہ ترقیات کراچی نے شہر قائد میں تبدیلی استعمال اراضی (مس یوز آف پلاٹس) پر غیر اعلانیہ طور پر بڑی کارروائیاں شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ، ذرائع کا کہنا ہے کہ کے ڈی اے افسران نے مذکورہ کارروائیوں کو مبینہ طور پر غیر اعلانیہ طور پر ٹارگیٹیڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کے ڈی اے کے اندرونی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ادارے کے ایک سابق ریٹائرڈ ڈائریکٹر مس یوز آف پلاٹ کے نوٹسز جاری کرکے شہر سے مبینہ طور پر کروڑوں روپے بٹور کر روانہ ہوچکے ہیں، اس حوالے سے ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ تین سال قبل گورننگ باڈی سے اس سلسلے میں منظوری لی گئی تھی اور اس کے بعد سے افسران مذکورہ منظور کیے گئے گورننگ باڈی کے فیصلے کو مبینہ طور پر ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔

 تاہم ایک مرتبہ پھر ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں باقاعدہ اعلانیہ کارروائی کے بجائے ٹارگیٹیڈ آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں کراچی کے ہزاروں پلاٹوں کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے اور ان کی بحالی کے لیے بھاری جرمانہ وصول کیا جانا شامل ہے،کے ڈی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر اعلانیہ ٹارگیٹیڈ آپریشن کے باعث ادارے کو ریونیو حاصل ہونے کے بجائے  مذکورہ ریونیو بدعنوانیوں کی نذر ہونے کا خطرہ ہے۔

اس حوالے سے ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ منسوخ شدہ پلاٹوں کی بحالی سے حاصل ریونیو کے لیے کے ڈی اے میں کوئی اکائونٹ بھی نہیں کھولا جاسکا ہے جس سے واضح ہوسکے کہ اس مد میں کتنی آمدنی ادارے کو حاصل ہوسکی ہے۔

 ڈائریکٹر جنرل کے ڈی اے آصف جان صدیقی کی منظوری سے اس حوالے سے تین ماہ قبل یکم اگست 2025ء کو ایک سرکلر جاری کیا گیا تھا مذکورہ سرکلر جاری کرکے مبینہ طور پر فائلوں میں محفوظ کرلیا گیا ہے اور ادارے کے متعدد اہم افسران بھی جاری کیے گئے سرکلر سے لاعلم بتائے جاتے ہیں۔

سرکلر کے مطابق مس یوز آف پلاٹس پر الاٹمنٹ منسوخ کی جائے گی جبکہ اس کی بحالی کے لیے 100 روپے کے اسٹیمپ پیپر پردوبارہ مس یوز آف پلاٹ نہ کرنے کا حلف نامہ جمع کرانا ہوگا جبکہ بحالی کے چارجز بھی ادا کرنا ہونگے جس کیلئے 6 مختلف کیٹیگریز بنائی گئی ہیں۔

 کیٹگیری 1 میں جن علاقوں کو شامل کیا گیا ہے اس میں اسکیم ون اے،فائیو،سیون،الیون اور24  بوہری بازار،شارع فیصل،الہلال،سندھی مسلم،دھوراجی اور اس سے ملحقہ سوسائٹیز شامل ہیں جن کی بحالی کی فیس5 ہزارروپے اسکوائر یارڈ رکھی گئی ہے۔

کیٹیگری2 میں اسکیم ٹو،36 ناظم آباد شامل ہیں اور کیٹیگری 3 میں اسکیم16 خدادا کالونی شامل ہیں مذکورہ دونوں کیٹگیری میں منسوخ کی گئی الاٹمنٹ کی بحالی کی فیس 3 ہزار روپے اسکوائر یارڈ رکھی گئی ہے۔

کیٹیگری4 میں نارتھ کراچی ٹائون شپ شامل ہے جس میں منسوخ کی گئی الاٹمنٹ کی بحالی فیس ڈھائی ہزار روپے اسکوائر یارڈ مقرر کی گئی ہے۔

اسی طرح کیٹگیری 5 میںاسکیم33،میٹروول I,II,III ، شاہ فیصل کالونی،ملیر ٹائون شپ شامل ہیں جس میں پلاٹوں کی بحالی کے چارجز فیس1500 روپے اور کیٹیگری6 جس میں اسکیم41،کورنگی لانڈھی،قصبہ،قصبہ میٹروول شامل ہیں ان کے منسوخ کی گئی الاٹمنٹ کی بحالی کی فیس بھی1500 روپے مقرر کی گئی ہے، کے ڈی اے کے جاری سرکلر میں ڈائریکٹر ریکوری کو اہم ٹاسک دیا گیا ہے کہ مکمل چالان جمع نہ ہونے تک پلاٹ کی ری اسٹوریشن نہ کی جائے۔

واضح رہے کہ شہر بھر میں رہائشی پلاٹوں پر ہوٹلز،بیوٹی پارلرز،اسکولز،شادی ہالز،،بینکیوٹس،دکانیں اور دیگر مختلف نوعیت کی تجارتی اور کمرشل سرگرمیاں جاری ہیں،موجودہ صورتحال میں کئی ہزار گھروں کی الاٹمنٹ کی منسوخی اور بحالی کی مد میں کے ڈی اے کو اربوں روپے کی آمدنی متوقع ہے جس کے لیے تیاری کی جارہی ہے۔

تاہم دوسری طرف ادارے کی کرپٹ مافیا بھی بہتی گنگا میں ڈبکیاں لگانے کے لیے اپنا پلان تیار کرنے میں مصروف ہے۔اس حوالے سے ڈائریکٹر لینڈ مراد عباسی سے ان کا موقف جاننے کے لیے کوشش کے باوجود رابطہ ممکن نہ ہوسکا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: غیر اعلانیہ اس حوالے سے الاٹمنٹ کی کہنا ہے کہ پلاٹوں کی مس یوز آف کی بحالی ذرائع کا بحالی کے منسوخ کی شامل ہیں بحالی کی کے ڈی اے کرنے کا کی گئی گیا ہے کے لیے گئی ہے

پڑھیں:

اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی مدت پوری ہونے کے بعد ان کے جانشین کے انتخاب کے لیے 6 امیدوار سامنے آ گئے ہیں۔ عالمی ادارہ اس وقت بڑھتی ہوئی جنگوں، عالمی عدم استحکام اور شدید مالی بحران جیسے غیر معمولی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، جس کے باعث نئے سربراہ کے انتخاب کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔

امیدواروں میں 4 خواتین اور 2 مرد شامل ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگرچہ کسی ایک امیدوار کو واضح برتری حاصل نہیں، تاہم ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والے رافیل گروسی کا نام سب سے زیادہ مضبوط امیدوار کے طور پر لیا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے اگلے سربراہ کے انتخاب کے لیے سلامتی کونسل کے 15 میں سے کم از کم 9 ارکان کی حمایت درکار ہوگی، تاہم امیدوار کو 5 مستقل ارکان امریکا، برطانیہ، چین، فرانس اور روس میں سے کسی ایک کے ویٹو سے بھی بچنا ہوگا۔ سلامتی کونسل کی سفارش کے بعد ہی جنرل اسمبلی نئے سیکریٹری جنرل کی باضابطہ منظوری دے گی۔

مشیل باشیلے (چلی)

74 سالہ مشیل باشیلے چلی کی پہلی خاتون صدر رہ چکی ہیں۔ جنرل آگستو پنوشے کی فوجی حکومت کے دوران انہیں تشدد کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

بعد ازاں وہ اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق بھی رہیں، جہاں انسانی حقوق سے متعلق ان کے مؤقف، خصوصاً چین کے سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں سے متعلق رپورٹ، پر بیجنگ نے سخت تنقید کی۔

باشیلے کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے پاس بڑی طاقتوں کے دباؤ کے باوجود اخلاقی قیادت  ہونی چاہیے۔

انہیں میکسیکو اور برازیل کی حمایت حاصل ہے، تاہم چلی کی نئی حکومت نے ان کی حمایت واپس لے لی ہے، جبکہ امریکا بھی اسقاط حمل کے حق میں ان کے مؤقف پر تنقید کرتا رہا ہے۔

ماریا فرنانڈا ایسپینوسا (ایکواڈور)

61 سالہ ماریا فرنانڈا ایسپینوسا ایکواڈور کی سابق وزیر خارجہ اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی سابق صدر رہ چکی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ انسانیت کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کا واحد عالمی پلیٹ فارم ہے، تاہم ادارے میں گہری اصلاحات کی بھی ضرورت ہے۔

 

انہوں نے مستقبل کے تنازعات کی پیشگی نشاندہی کے لیے ابتدائی انتباہی نظام (Early Warning System) قائم کرنے کی تجویز دی ہے۔

ان کی امیدواری کی حمایت اینٹیگوا اینڈ باربوڈا نے کی ہے، تاہم ان کے اپنے ملک ایکواڈور نے باضابطہ حمایت نہیں کی۔

رافیل گروسی (ارجنٹائن)

65 سالہ رافیل گروسی پیشہ ور سفارت کار ہیں اور 2019 سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر جنرل ہیں۔

انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام اور یوکرین کے زاپوریزیا جوہری پلانٹ سے متعلق عالمی سفارت کاری میں اہم کردار ادا کیا۔

گروسی نے سیکریٹری جنرل کی انتخابی مہم چلانے کے لیے اپنے موجودہ عہدے سے استعفیٰ دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنا ان کی ذمہ داریوں سے غفلت کے مترادف ہوگا۔

وہ اقوام متحدہ میں اصلاحات اور سیکریٹری جنرل کے زیادہ فعال کردار کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔

ربیکا گرینسپن (کوسٹا ریکا)

70 سالہ ربیکا گرینسپن کوسٹا ریکا کی سابق نائب صدر اور اقوام متحدہ کے ادارے UNCTAD کی سربراہ ہیں۔

انہوں نے سیکریٹری جنرل کی مہم کے لیے اپنی ذمہ داریوں سے عارضی رخصت لے رکھی ہے۔

2022 میں انہوں نے روس اور یوکرین کے درمیان بحیرہ اسود اناج معاہدہ  کرانے میں اہم سفارتی کردار ادا کیا، جس کے ذریعے یوکرین سے اناج کی برآمدات بحال ہوئیں۔

گرینسپن کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ ایک ضرورت سے زیادہ محتاط ادارہ بن چکا ہے، جس میں مؤثر فیصلوں کی رفتار بڑھانے کی ضرورت ہے۔

کیرولین روڈریگز برکیٹ (گیانا)

52 سالہ کیرولین روڈریگز برکیٹ گیانا کی سابق وزیر خارجہ اور اس وقت اقوام متحدہ میں اپنے ملک کی مستقل مندوب ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کو عالمی سطح پر اپنی ساکھ  دوبارہ بحال کرنا ہوگی۔

ان کے مطابق اقوام متحدہ کو صرف امن و سلامتی کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ ادارہ ترقی، انسانی حقوق اور دیگر کئی شعبوں میں بھی نمایاں خدمات انجام دے رہا ہے۔

میکی سال (سینیگال)

64 سالہ میکی سال اس دوڑ میں شامل واحد امیدوار ہیں جو لاطینی امریکا سے تعلق نہیں رکھتے، حالانکہ روایتی طور پر اس مرتبہ سیکریٹری جنرل کا منصب لاطینی امریکا کو ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

سینیگال کے سابق صدر میکی سال امن اور ترقی کے باہمی تعلق پر زور دیتے ہیں۔

ان کی امیدواری سب سے پہلے برونڈی نے، جو اس وقت افریقی یونین کی سربراہی کر رہا ہے، پیش کی تھی، جبکہ سینیگال نے بھی حال ہی میں ان کی باضابطہ حمایت کا اعلان کیا ہے۔

تاہم سینیگال میں ان پر 2021 سے 2024 کے دوران حکومت مخالف مظاہروں کو طاقت سے کچلنے کے الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں، جن میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

انتخاب کا طریقۂ کار

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی تقرری 5 سال کے لیے ہوتی ہے۔ سلامتی کونسل امیدوار کے نام کی سفارش کرتی ہے، جس کے بعد 193 رکنی جنرل اسمبلی اس کی توثیق کرتی ہے۔ اگرچہ سلامتی کونسل میں 9 ووٹ درکار ہوتے ہیں، لیکن کسی بھی مستقل رکن کا ویٹو امیدوار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی، یوکرین اور غزہ کی جنگ، مشرقِ وسطیٰ کے بحران اور اقوام متحدہ کے مالی مسائل کے باعث اس مرتبہ سیکریٹری جنرل کا انتخاب گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ اور حساس تصور کیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • فیفا ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان
  • کراچی: لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران قدیم مجسمے دریافت
  • کراچی: لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران آثارِ قدیمہ کی موجودگی کا انکشاف
  • سائوتھ ایئر کا نجی ایئر فیلڈز پر کمرشل پروازوں کا اجازت نامہ منسوخ
  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ جانیے
  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ انتہائی آسان
  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے