2021 کا بلیک آوٹ؛نیپرا کا نیشنل گرڈ کمپنی اور سی پی پی اے کو ڈھائی ،ڈھائی کروڑ روپے جرمانہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
سٹی 42: چارسال قبل ہونے والے بلیک آوٹ کے بعد بروقت بجلی بحالی میں ناکامی پر نیپرا نےنیشنل گرڈ کمپنی اور سی پی پی اے کوذمہ دار قرار دےدیا
نیشنل گرڈ کمپنی اور سی پی پی اے پر، ڈھائی، ڈھائی کروڑروپے جرمانہ عائد کردیا گیا ۔نیپرا نے اس حوالے سے اپنا فیصلہ جاری کردیا ۔
فیصلے کے مطابق نو جنوری 2021 کو ملک 20 گھنٹے تک اندھیرے میں ڈوبا رہا۔نیشنل گرڈکمپنی، سی پی پی اے بلیک آوٹ کے بعد فوری طور پر بجلی بحال کرنے میں ناکام رہی۔سال 2021،2022 اور 2023 میں بجلی معطل ہونے کے واقعات رونما ہوئے۔
دونوں کمپنیاں بروقت بجلی بحالی میں ناکام رہیں ۔نیپرا نے بلیک اوٹ کےمعاملے پر تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی ۔سماعت کے دوران نیشنل گرڈ کمپنی، سی پی پی اے نیپرا کو مطمئن کرنے میں ناکام رہی ۔
ڈولفن سکواڈ کی کارروائی؛ 2مشکوک ملزمان گرفتار ، اسلحہ برآمد
سماعت میں دونوں کمپنیوں نے ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کی کوشش کی۔نیپرا نے دونوں کمپنیوں کو پندرہ روز کے اندر جرمانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سی پی پی اے
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔