ٹیکس فراڈ کیسز میں گرفتاری سے قبل تاجر نمائندوں سے لازمی مشاورت ہوگی، ایف بی آر
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس فراڈ کے الزامات میں تاجروں کی گرفتاری کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اب کسی بھی تاجر کے خلاف کارروائی سے قبل تاجر تنظیموں کے نمائندوں سے باضابطہ مشاورت کی جائے گی۔ اس سلسلے میں ایف بی آر نے کاروباری و تاجر تنظیموں کے نمائندگان کی فہرست بھی جاری کردی ہے، جو ملک بھر کے مختلف چیمبرز اور ایسوسی ایشنز سے تعلق رکھتے ہیں۔
جمعرات کے روز جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ایف بی آر نے سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 02 آف 2025 کے تحت ایک جامع طریقہ کار متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد تاجروں پر غیر ضروری دباؤ اور بلاجواز گرفتاریوں کی روک تھام ہے۔
اس آرڈر کے تحت پاکستان بزنس کونسل، ایف پی سی سی آئی، لاہور چیمبر، اپٹما، ملتان، کوئٹہ، حیدرآباد اور سرحد چیمبرز آف کامرس کے نمائندگان کو شامل کیا گیا ہے۔
ایف بی آر کے مطابق کسی بھی تاجر کے خلاف تحقیقات کی منظوری ممبر ان لینڈ ریونیو آپریشنز کی اجازت کے بغیر نہیں دی جائے گی۔ اس سے پہلے کمشنر پر لازم ہوگا کہ وہ متعلقہ زون سے کاروباری برادری کے دو نمائندوں سے مشاورت کرے۔ یہ نمائندے قبل از گرفتاری کمیٹی میں شامل ہوں گے تاکہ ہر فیصلہ شفافیت کے ساتھ کیا جائے۔
ایف بی آر کے مطابق یہ اقدام کاروباری برادری کے اعتماد کی بحالی کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ کمیٹی میں شامل نمائندے اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ تاجروں پر کسی بھی مرحلے پر غیر ضروری دباؤ نہ ڈالا جائے۔ اس سلسلے میں ایف بی آر نے ہدایت کی ہے کہ تمام تاجر تنظیمیں اپنے دو ایسے نمائندے نامزد کریں جو باقاعدہ ٹیکس دہندہ اور نمایاں کاروباری حیثیت رکھتے ہوں۔
اس حوالے سے مزید بتایا گیا ہے کہ ہر ریجن کے لیے نمائندگان کی تقرری ان کی ٹیکس ادائیگی، برآمدات اور کمپلائنس ہسٹری کی بنیاد پر کی جائے گی جب کہ کسی ایک زون میں ایک ہی تنظیم سے صرف ایک نمائندہ منتخب ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی دارالحکومت میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات کار میں توسیع کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، یہ فیصلہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہونے والے کفایت شعاری سے متعلق اجلاس میں کیا گیا۔
اجلاس میں طے پایا کہ اسلام آباد میں دکانیں اور شاپنگ مالز اب رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ شادی ہالز کو رات 10 بجے تک اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔
اسی طرح ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں بھی نرمی کرتے ہوئے انہیں رات 11 بجے تک کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز کو مقررہ اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ فارمیسیوں، اسپتالوں اور پیٹرول پمپس کو ان پابندیوں سے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا اور وہ معمول کے مطابق اپنی خدمات جاری رکھ سکیں گے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق نئے اوقات کار کا مقصد توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے، جبکہ اس فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق مزید ہدایات جلد جاری کی جائیں گی۔
مزید پڑھیں۔ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا ؟