امن و امان کے لیے مشاورت سے پالیسی بنانا ہوگی، سہیل آفریدی، پولیس کو جدید اسلحہ اور سیکیورٹی آلات حوالے
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پولیس لائنز پشاور کا دورہ کیا ہے۔ انہوں نے پولیس کو بلٹ پروف گاڑیاں، جدید اسلحہ و سیکیورٹی آلات با ضابطہ طور پر حوالہ کردیے۔
پولیس کو ڈرونز کیمرے، اینٹی ڈرون گنز، اینٹی ڈرون سسٹمز، تھرمل کیمرے، جیمرز کے ساتھ بلٹ پروف جیکٹس، بیلسٹک ہیلمٹس اور بکتر بند گاڑیاں فراہم کی گئیں۔
اس کے علاوہ سنائپر رائفلز، ڈریگونوف، ایم سولہ، سب مشین گنز اور ہیوی مشین گنز بھی پولیس فورس کے حوالے کی گئیں۔
وزیراعلیٰ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ تھرمل ویپن سائٹس اور تھرمل بائنوکلرز سے پولیس کی رات کی نگرانی مؤثر بنے گی، بلٹ پروف ہیولز، بلٹ پروف ریوو اور سائیڈ آرمَرنگ سے پولیس کی نقل و حرکت مزید محفوظ ہو سکے گی۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہاکہ 2018 سے 2022 تک ہم نے امن دیکھا مگر اس کے بعد حالات خراب ہوئے، قیام امن کے لیے اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے پالیسی بنانا ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ پولیس فورس کو موجودہ حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں، جوانوں کے جذبے جوان ہیں، اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ہر اول دستے کا کردار ادا کررہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ہماری بھرپور کوشش ہے کہ پولیس فورس کو ناقابل تسخیر بنایا جائے، پولیس فورس کو موجودہ حالات سے نمٹنے کے لیے مزید اسلحہ و آلات بھی فراہم کیے جائیں گے۔
سہیل آفریدی نے کہاکہ جب ہم 80 ہزار شہدا کی بات کرتے ہیں تو ان میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے جوان بھی شامل ہیں، ہم صوبے میں امن بحال کریں گے اور اسے برقرار بھی رکھیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جب تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے پالیسی بنے گی تو امن و امان قائم ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسٹیک ہولڈرز امن و امان پالیسی سہیل آفریدی مشاورت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹیک ہولڈرز پالیسی سہیل ا فریدی مشاورت وزیراعلی خیبرپختونخوا وی نیوز سہیل ا فریدی پولیس فورس بلٹ پروف نے کہاکہ کے لیے
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔