عالمی یومِ فالج پر کراچی میں مفت اسکریننگ کیمپ، شہریوں کی بھرپور شرکت
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: عالمی یومِ فالج کے موقع پر نیورولوجی اویئرنس اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام اور الخدمت ہیلتھ فاؤنڈیشن، پاکستان اسٹروک سوسائٹی اور پیما پاکستان کے تعاون سے شہر بھر میں مفت فالج اسکریننگ کیمپ منعقد کیے گئے، جن میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور مفت طبی سہولیات سے استفادہ کیا۔
ان کیمپوں کا انعقاد صبح 11 بجے سے دوپہر 2 بجے تک کیا گیا، اس موقع کا بنیادی مقصد فالج (اسٹروک) کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا، بیماری کی بروقت تشخیص کو فروغ دینا اور فوری علاج کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا، اس سال عالمی یومِ فالج کا مرکزی پیغام ہر لمحہ قیمتی ہے رکھا گیا تاکہ عوام کو یہ سمجھایا جا سکے کہ فالج کی صورت میں تاخیر مریض کی جان کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
کراچی کے 9 مقامات پر مفت کیمپ
ترجمان کے مطابق فالج کی اسکریننگ کے مفت کیمپ کراچی کے نو مختلف مقامات پر لگائے گئے، جن میں الخدمت اسپتال ناظم آباد، نارتھ کراچی، فریدہ یعقوب اسپتال (گلشن حدید)، شاہ فیصل کالونی، اورنگی ٹاؤن، الخدمت میڈیکل سینٹر سخی حسن، ڈاکٹر عبدالسلام میڈیکل سینٹر، نیورو کلینک اینڈ فالج کیئر (ڈی ایچ اے فیز گارڈن)، اور برین اینڈ ہارٹ کلینک (گلستانِ جوہر) شامل ہیں۔
شہریوں کے لیے مفت طبی سہولیات
کیمپوں میں آنے والے شہریوں کو بلڈ پریشر، شوگر، کولیسٹرول، قد و وزن اور بی ایم آئی چیک سمیت ماہرِ امراضِ دماغ و اعصاب سے مفت مشورے فراہم کیے گئے، ماہرین نے فالج کی ابتدائی علامات، فوری علاج اور بروقت تشخیص کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فالج کا علاج ممکن ہے، تاہم تاخیر سے علاج مستقل معذوری یا موت کا سبب بن سکتا ہے۔
شرکاء نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ عوامی آگاہی کی ایسی سرگرمیاں معاشرے میں مثبت تبدیلی کا باعث بن سکتی ہیں اور بروقت علاج کے ذریعے بے شمار زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔
آگاہی مہم اور تعلیمی سرگرمیاں
عالمی یومِ فالج کے موقع پر شہر بھر میں آگاہی بینرز آویزاں کیے گئے اور سوشل میڈیا پر معلوماتی ویڈیوز و بصری مواد بھی جاری کیا گیا، اسی سلسلے میں لیاقت کالج آف میڈیسن اینڈ ڈینٹیسری میں فالج سے آگاہی اور بچاؤ کے موضوع پر پوسٹرز کا مقابلہ بھی منعقد کیا گیا، جس میں ایم بی بی ایس طلبا و طالبات نے بڑی تعداد میں حصہ لیا۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر راشد نسیم (پرنسپل لیاقت کالج آف میڈیسن اینڈ ڈینٹیسری) اور پروفیسر ڈاکٹر عبدالمالک (صدر پاکستان اسٹروک سوسائٹی) تھے۔ نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبا کو 25 ہزار، 15 ہزار اور 10 ہزار روپے کے انعامات دیے گئے۔
ماہرین نے اس موقع پر کہا کہ فالج دنیا بھر میں معذوری کی سب سے بڑی وجوہات میں شامل ہے، اس لیے ضروری ہے کہ عوام بروقت تشخیص، صحت مند طرزِ زندگی اور فوری علاج کو اپنا شعار بنائیں تاکہ ایک فعال اور صحت مند معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فالج کی
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔