کراچی میں نیا ٹریفک ای چالان سسٹم: 3 دن میں ساڑھے 6 کروڑ کے جرمانے
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے شہریوں کے لیے نافذ کیے گئے نئے خودکار ای ٹکٹنگ سسٹم سے صرف 3 روز میں مجموعی طور پر 12 ہزار 942 چالان جاری کیے، جن کی مالیت 6 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد ہے۔
ٹریفک پولیس کے مطابق سب سے زیادہ چالان سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر کیے گئے، جن کی تعداد 7 ہزار 83 رہی۔ اس کے بعد بغیر ہیلمٹ موٹرسائیکل چلانے پر 2 ہزار 456، اوور اسپیڈنگ پر ایک ہزار 920 اور ریڈ سگنل توڑنے پر 829 چالان جاری کیے گئے۔
اسی طرح ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون استعمال کرنے پر 410 جب کہ رانگ وے پر گاڑی چلانے پر 78 چالان کیے گئے۔ پولیس کے مطابق لین لائن کی خلاف ورزی پر 49، کالے شیشے لگانے پر 35، اوور لوڈنگ پر 26 جب کہ غیر قانونی پارکنگ، اسٹاپ لائن کی خلاف ورزی اور غلط پارکنگ پر 20، 20 چالان کیے گئے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ون وے پر غلط سمت میں گاڑی چلانے پر صرف 11 چالان اور بسوں کی چھتوں پر مسافر بٹھانے پر 7 چالان جاری کیے گئے، تاہم ٹریفک پولیس کے مطابق فینسی نمبر پلیٹ، ٹیکس کی عدم ادائیگی یا بس لین کی خلاف ورزی پر تاحال کوئی چالان نہیں کیا گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فیس لیس ای ٹکٹنگ سسٹم کا مقصد شہریوں کو براہِ راست جُرمانے کے عمل میں شفافیت دینا اور رشوت یا ذاتی مداخلت کا خاتمہ کرنا ہے۔ یہ نظام کیمروں اور خودکار سافٹ ویئر کے ذریعے گاڑی کی خلاف ورزی کا ثبوت خودکار طور پر محفوظ کرتا ہے، جس کے بعد چالان گھر کے پتے یا آن لائن پورٹل پر بھیج دیا جاتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی خلاف ورزی کیے گئے
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔