نئے نظام کے تحت دوسرے روز 4 ہزار سے زائد ای چالان
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی ( اسٹاف رپورٹر) شہر ِ قائد میںای چالان نظام کے نفاذ کے بعد ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ فیس لیس ای ٹکٹنگ سسٹم کے دوسرے روز کی 24 گھنٹوں پر مشتمل مانیٹرنگ رپورٹ کے مطابق ٹریفک پولیس نے مجموعی طور پر 4 ہزار 301 الیکٹرونک چالان جاری کیے۔ سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر سب سے زیادہ 2 ہزار 290 چالان کیے گئے جبکہ اوور اسپیڈنگ کے 845، ہیلمٹ کے بغیر موٹر سائیکل چلانے کے 655، ریڈ سگنل کی خلاف ورزی پر 306 اوردورانِ ڈرائیونگ موبائل فون استعمال کرنے پر 162 چالان جاری ہوئے۔ مزید بتایا گیا کہ رانگ وے پر آنے والے ڈرائیورز کے 33، لین لائن کے غلط استعمال کے 21، غیر قانونی پارکنگ کے 15 اوور لوڈنگ کے 4، ون وے کی خلاف ورزی پر 16، کالے شیشوں کے3، اور اسٹاپ لائن سے آگے گاڑی کھڑی کرنے پر 6 چالان کیے گئے۔ ترجمان نے بتایا کہ فیس لیس ای ٹکٹنگ سسٹم کے پہلے روز، یعنی ابتدائی 6 گھنٹوں کے دوران ہی 2 ہزار 662 چالان جاری ہوئے تھے، جب کہ دوسرے روز رات 12 بجے تک 4301 ای ٹکٹ مکمل طور پر سسٹم کے ذریعے جاری کیے گئے۔ یہ نظام شہریوں میں قوانین کی پاسداری اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔ جدید کیمروں اور ڈیجیٹل انٹگریشن کے ذریعے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ڈرائیورز کی فوری نشاندہی ممکن ہو گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی خلاف
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔