اسرائیل میں ہزاروں مذہبی طور پر قدامت پسند یہودی مردوں نے جمعرات کو فوجی بھرتی کے خلاف یروشلم میں بھرپور مظاہرہ کیا۔

مظاہرین، سیاہ لباس اور ٹوپیاں پہنے، فوجی خدمات سے استثنیٰ کے حق میں نعرے لگاتے رہے، وہی استثنیٰ جس کی ضمانت دینے کا وعدہ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو طویل عرصے سے کرتے آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ہولوکاسٹ سروائیور بھی اسرائیلی مظالم پر سراپا احتجاج

میڈیا رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی مظاہرین نے شہر کی مرکزی شاہراہوں پر مارچ کیا، فوجی بھرتی کے خلاف نعرے لگائے اور کئی مقامات پر ترپال کے ٹکڑوں کو نذرِ آتش کیا۔

⚠️ Important

Large gatherings of Ultra-Orthodox Jews are taking place in Jerusalem to protest against military conscription pic.

twitter.com/Vk2mQDZaKN

— Open News© (@OpenNewNews) October 30, 2025

پولیس نے یروشلم کے تاریخی شہر میں ہزاروں اہلکاروں کو تعینات کرتے ہوئے متعدد سڑکیں بند کردیں۔

یہ احتجاج اُس وقت منعقد ہوا ہے جب اسرائیلی حکام نے حالیہ مہینوں میں مذہبی یہودیوں کو بڑی تعداد میں فوجی طلبی کے نوٹس بھیجے ہیں اور بھرتی سے انکار کرنے والے کئی افراد کو جیل بھی بھیجا جا چکا ہے۔

مزید پڑھیں: اسرائیل کے معزول وزیر دفاع نے نیتن یاہو کے عزائم، ہٹ دھرمی کا بھانڈا پھوڑ دیا

1948 میں اسرائیل کے قیام کے وقت ایک اصول طے کیا گیا تھا جس کے مطابق وہ مذہبی یہودی مرد جو مکمل طور پر مذہبی تعلیم کے مطالعے میں مصروف رہتے ہیں، لازمی فوجی خدمت سے مستثنیٰ ہوں گے۔

تاہم غزہ میں اکتوبر 2023 سے جاری جنگ کے بعد جب فوج کو افرادی قوت کی شدید کمی کا سامنا ہوا تو اس استثنیٰ پر شدید دباؤ بڑھ گیا۔

اسرائیلی سپریم کورٹ نے جون 2024 میں اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ مذہبی یہودیوں کے لیے فوجی سروس سے استثنیٰ ختم ہو چکا ہے اور حکومت اب انہیں لازمی طور پر بھرتی کرے۔

اس کے بعد پارلیمانی کمیٹی ایک نئے بل پر غور کر رہی ہے جس کے تحت صرف وہ نوجوان مستثنیٰ ہوں گے جو مکمل وقت مذہبی تعلیم میں مصروف ہوں گے۔

مزید پڑھیں:اسرائیلی وزیراعظم کا دورہ امریکا، یہودیوں نے احتجاج کیوں کیا؟

یہ مسئلہ نیتن یاہو کی دائیں بازو کی مخلوط حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، رواں برس جولائی میں شاس پارٹی کے وزراء نے احتجاجاً کابینہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

دوسری جانب یونائیٹڈ تورہ جوڈائیزم پارٹی پہلے ہی حکومت چھوڑ چکی ہے۔

120 رکنی کنیسٹ میں 11 نشستوں کی حامل شاس پارٹی نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوجی سروس سے استثنیٰ کو قانون کا حصہ نہ بنایا گیا تو وہ حکومت کی حمایت واپس لے لے گی، جس سے نیتن یاہو کی 60 نشستوں والی حکومت گر سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: مظاہرین نے اسرائیلی پارلیمنٹ پر دھاوا کیوں بولا؟

کچھ قدامت پسند مذہبی رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ فوجی خدمات نوجوانوں کو مذہب سے دور کر سکتی ہیں، جبکہ بعض دیگر کا کہنا ہے کہ جو مذہبی مطالعے میں مصروف نہیں، وہ فوج میں شامل ہو سکتے ہیں۔

اسرائیل کی یہودی آبادی کا تقریباً 14 فیصد، یعنی تقریباً 13 لاکھ افراد، قدامت پسند طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں سے تقریباً 66 ہزار مرد اس وقت فوجی خدمات سے مستثنیٰ ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

استثنی اسرائیل پارلیمانی کمیٹی سپریم کورٹ کنیسٹ لازمی فوجی خدمت مذہبی تعلیم یروشلم یونائیٹڈ تورہ جوڈائیزم پارٹی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل پارلیمانی کمیٹی سپریم کورٹ لازمی فوجی خدمت مذہبی تعلیم نیتن یاہو

پڑھیں:

وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان

اسلام آباد:

نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔

وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان