data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے غزہ میں پاک فوج کی تعیناتی اور اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق بھارتی میڈیا کے جھوٹے پروپیگنڈے کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف پھیلائی جانے والی یہ مہم من گھڑت، گمراہ کن اور بدنیتی پر مبنی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزارتِ اطلاعات و نشریات پاکستان نے بھارتی میڈیا کے ہتھکنڈوں کا ایک بار پھر پردہ فاش کرتے ہوئے کہاکہ   بھارتی جریدے فرسٹ پوسٹ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں یہ جھوٹا دعویٰ کیا کہ مبینہ طور پر پاکستانی عسکری قیادت کا سی آئی اے اور موساد کے ساتھ کوئی معاہدہ ہوا ہے، جس کے تحت 20 ہزار پاکستانی فوجی غزہ میں تعینات کیے جائیں گے۔

وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے واضح کیا کہ پاکستان نے نہ کبھی اسرائیل کو تسلیم کیا ہے اور نہ ہی غزہ میں کسی فوجی مشن یا تعیناتی پر کوئی بات چیت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) اور دفترِ خارجہ نے بھی ایسے کسی منصوبے کی تصدیق یا تائید نہیں کی۔

عطا تارڑ نے کہا کہ بھارتی جریدے نے صحافتی اصولوں اور اخلاقیات کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک پاکستانی اخبار کے جملے سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیے۔ ان کے مطابق ’’انٹیلی جنس لیکس‘‘ کے نام پر پیش کیے گئے تمام دعوے من گھڑت اور بے بنیاد ہیں۔

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ بھارت کے بعض میڈیا ادارے مودی سرکار کی ایما پر پاکستان دشمن مہمات میں پیش پیش ہیں، جن کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا اور عالمی سطح پر غلط تاثر دینا ہے،  پاکستان کا مؤقف ہمیشہ سے فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی حمایت پر مبنی رہا ہے۔ پاکستان نے ہر بین الاقوامی فورم پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت اور فلسطین کے مظلوم عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ بھارتی میڈیا کی جھوٹی اور مضحکہ خیز رپورٹنگ مودی حکومت کے مکروہ عزائم کو ظاہر کرتی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کی حمایت کرنے والے ممالک کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ بنانا ہے۔ انہوں نے عالمی میڈیا سے اپیل کی کہ وہ حقائق پر مبنی رپورٹنگ کرے اور بھارت کی غلط معلومات کی مہم کا حصہ نہ بنے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بھارتی میڈیا

پڑھیں:

صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔

پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی

صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔

ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو سٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے