فیض حمید کو دفاع کا حق دیا گیا، فیصلہ شواہد کی بنیاد پر ہوا: وزیر اطلاعات
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
ویب ڈیسک :وفاقی وزیر اطلاعات عطاتارڑ کا کہنا ہے کہ فیض حمید پر سرکاری وسائل کے غلط استعمال کاالزام ثابت ہوا۔ شواہد کی بنیاد پر ہی فیصلہ کیا گیا۔
وزیراطلاعات عطاتارڑ نے کہا کہ ریڈلائن کراس کرنے والے شخص کوسزا ہوئی ہے، کوئی شخص قانون سے بالاتر نہیں، فیض حمید ایڈوائزر کے طور پر پی ٹی آئی کی مدد کرتے رہے۔ فوج میں خوداحتسابی کاعمل بہت مضبوط ہے، فیض حمید کیخلاف فیصلہ ثبوت ہے۔
باغبان پورہ کی خواتین نے بلاول سے سیاست چھڑوا دی، اسکے بعد کیا باتیں ہوئیں؟ دلچسپ رپورٹ
عطاتارڑ کا کہنا تھا کہ آج کے تاریخی فیصلے سے حق اورسچ کی فتح ہوئی، فیض حمید کو دفاع کاحق دیا گیا،شواہد کی بنیاد پر ہی فیصلہ کیاگیا۔ آج کے تاریخی فیصلے سے حق اور سچ کی فتح ہوئی۔
سماء سے گفتگو میں وزیراطلاعات عطاتارڑ نے کہا کہ آج تاریخی فیصلے سے حق اور سچ کی فتح ہوئی، فیض حمید نے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیا،بغاوت کوفروغ دیا۔ آج احتساب کیلئےبہت بڑادن ہے۔
عطاتارڑ نے کہا کہ ٹرائل میں تمام ثبوت سامنے رکھے گئے،گواہوں کے بیان قلمبندکیے گئے، فیض حمید کے خلاف ناقابل تردید ثبوت تھے۔ فیض حمید پر اختیارات کے ناجائز استعمال، لوگوں کو نقصان پہنچانے کے الزام تھے۔
وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر فلسطینیوں کیلئے 100 ٹن امدادی سامان روانہ
وزیراطلاعات نے کہا کہ فیض حمید دیگرجرائم کے بھی مرتکب پائے گئے ہیں، فیض حمید نے 9مئی جیسے سنگین واقعات میں کردار اداکیا، فیض حمید کی سیاسی مداخلت کی فہرست بہت طویل ہے۔
واضح رہے کہ وجی عدالت نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو 14 سال قید بامشقت کی سزا سنادی ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 12 اگست2024کو پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت فیض حمید کیخلاف کارروائی کا آغاز ہوا تھا۔ فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا عمل 15 ماہ جاری رہا، عدالت نے آج 11 دسمبر کو ملزم کو 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی۔
ایک سیاسی جماعت سیاسی دجال کا کام کر رہی ہے; بلاول بھٹو زرداری
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :