ایمان مزاری اورہادی چٹھہ کو سپریم کورٹ سے ریلیف مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
ایمان مزاری اورہادی چٹھہ کو سپریم کورٹ سے ریلیف مل گیا WhatsAppFacebookTwitter 0 11 December, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) متنازعہ ٹویٹس کیس میں سپریم کورٹ نے وکلا ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے خلاف جاری ٹرائل پر حکمِ امتناع جاری کردیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کو ہدایت کی گئی ہے کہ دونوں ملزمان کی ٹرائل کیخلاف اپیلوں پر جلد فیصلہ کیا جائے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی ٹرائل رکوانے کی درخواستوں پر سماعت کی۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ ہائی کورٹ میں اپیلوں کے فیصلے تک ٹرائل کورٹ کارروائی آگے نہ بڑھائے۔
سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیئے کہ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کا کردار بھی اس معاملے میں اچھا نہیں رہا۔ دونوں ملزمان وکیل ہونے کے باوجود ٹرائل کے دوران احتجاج کرتے رہے۔ ماتحت عدلیہ کے ججز کو کسی بھی صورت بے توقیر نہیں ہونے دیا جائے گا۔
حکومت کو بھی یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ جسے چاہے سزا دے۔ سماعت کے دوران ناروے کے سفیر بھی کمرہ عدالت میں موجود رہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپی ٹی آئی کے سیاسی مشیر فیض حمید کیخلاف فیصلہ حق کی فتح ہے: عطا تارڑ پی ٹی آئی کے سیاسی مشیر فیض حمید کیخلاف فیصلہ حق کی فتح ہے: عطا تارڑ فیض حمید سیاسی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے،رانا ثنااللہ قوم برسوں فیض حمید، جنرل باجوہ کے بوئے بیجوں کی فصل کاٹے گی: خواجہ آصف عوام کے حقوق، صحت، معیارِ زندگی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،شفقت محمود فیض حمید کی سزا ابتداء، لمبا چوڑا انصاف کا سلسلہ رکے گا نہیں: فیصل واوڈا سابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو 14 سال قید با مشقت کی سزا سنا دی گئیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایمان مزاری سپریم کورٹ
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔