معروف اماراتی ای مجلے کا لکھنا ہے کہ ایرانی میزائل حملوں کی تابڑ توڑ لہروں کے 4 ماہ گزر جانیکے بعد بھی اسرائیل کے اہم انفراسٹرکچر پر "وسیع تباہی کے اثرات" واضح ہیں اور تل ابیب اس نقصان کی تلافی کرنے میں تاحال ناکام رہا ہے اسلام ٹائمز۔ معروف اماراتی ای مجلے ارم نیوز نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 12 روزہ جنگ کے خاتمے کو 4 ماہ گزر جانے کے باوجود تابڑ توڑ ایرانی میزائل حملوں کا سایہ اب بھی اسرائیل کے بنیادی انفرا اسٹرکچر پر موجود ہے۔ اماراتی ای مجلے کے مطابق جہاں اب تک صیہونی رژیم کے بہت سے اہم اداروں تک میں "وسیع تباہی" کے آثار ختم نہیں ہوئے وہیں اسرائیلی بنیادی ڈھانچے کا ایک قابل قدر حصہ بھی ابھی تک مفلوج ہے۔ ارم نیوز کا لکھنا ہے کہ "تیز ترین تعمیر نو" کے سیاسی وعدوں اور فلک شگاف نعروں کے باوجود، حقیقت بالکل مختلف ہے جیسا کہ نہ صرف فنڈنگ ​​میں مسلسل تاخیر ہو رہی ہے اور تعمیری اقدامات انتہائی سست روی کا شکار ہیں بلکہ گوناگوں بحرانوں سے نمٹنے کے لئے صیہونی کابینہ کی جانب سے انجام دی جانے والی منصوبہ بندی بھی ناکافی ہے!

اماراتی ویب سائٹ کے مطابق اسرائیل کے سرکاری بیانات اور "اہم ریاستی اداروں کے تحفظ کی حقیقی صلاحیت" کے درمیان بہت بڑا فرق پایا جاتا ہے کہ جو اسرائیل کو مستقبل قریب میں ہی مزید گہرے بحرانوں سے دوچار کر سکتا ہے۔ ارم نیوز کے مطابق ان بحران نے اسرائیلی کابینہ میں موجود ڈھانچہ جاتی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے جن کے باعث فوری منصوبہ بندی، لا متناہی تاخیر کا شکار اور وعدے وعید صرف الفاظ بن کر رہ گئے ہیں۔ ارم نیوز کا مزید لکھنا ہے کہ گذشتہ جنگ کے خاتمے کو 4 ماہ گزر جانے کے باوجود بھی صیہونی رژیم کے بنیادی ڈھانچے پر موجود ایرانی حملے کے وسیع اثرات کے تناظر میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیل اس سے شدید تر حملوں کی نئی لہر کا مقابلہ بھی کر سکتا ہے یا اس صورت میں، صیہونی رژیم کا پورے کا پورا نظام ہی تباہی کے خطرے سے دوچار ہے؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ارم نیوز

پڑھیں:

پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (Pakistan Institute of Development Economics) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے، جسے موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پالیسی تجویز قرار دیا جا رہا ہے۔

پائیڈ کی جانب سے جاری کردہ شواہد پر مبنی فریم ورک کے مطابق کم از کم اجرت میں اضافہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور سماجی ضرورت ہے، جو گھریلو سطح پر قوتِ خرید، غربت میں کمی، غیر رسمی روزگار کے رجحانات اور مجموعی معاشی استحکام پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم اجرت 45 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جاتی ہے تو یہ موجودہ 40 ہزار روپے کی سطح کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کو محنت کش طبقے کی مالی مشکلات میں کمی اور ان کی معاشی استعداد بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پائیڈ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض لیبر ڈپارٹمنٹ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، مہنگائی کے دباؤ اور مقامی مارکیٹ کی طلب سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجرت میں مناسب اضافہ نہ صرف مزدور طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پیداواری عمل میں بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔

مزیدپڑھیں:حکومت کا ریئل اسٹیٹ پیکیج تیار، فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک لانے کی تجویز

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً 6.19 فیصد رہی، تاہم اپریل 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جس نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کیا۔

 موجودہ معاشی صورتحال میں اجرتوں میں اضافہ ایک متوازن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت اور روزگار کے مواقع پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔

پائیڈ کی سفارش کے بعد اب یہ معاملہ حکومتی سطح پر غور کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں حتمی فیصلہ بجٹ پالیسی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت