یروشلم: اسرائیل نے واضح کردیا ہے کہ وہ غزہ میں تعینات کی جانے والی بین الاقوامی فورس میں ترک فوج کی موجودگی کو کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔

ہنگری میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون سار نے کہا کہ جو ممالک غزہ میں فوج بھیجنے کے خواہاں ہیں، انہیں اسرائیل کے ساتھ منصفانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر اردوان کی قیادت میں ترکی نے ہمیشہ اسرائیل کے خلاف دشمنی کا رویہ رکھا ہے، اس لیے اسرائیل کے لیے یہ قابلِ قبول نہیں کہ ترک مسلح افواج کو غزہ کی پٹی میں داخل ہونے دیا جائے۔

گیڈیون سار نے مزید کہا کہ اسرائیل نے اپنے امریکی اتحادیوں کو بھی اس موقف سے آگاہ کر دیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی چند روز قبل کہا تھا کہ اسرائیل غزہ میں ترک فورسز کے کسی کردار کی سخت مخالفت کرے گا اور یہ فیصلہ اسرائیل کرے گا کہ کن ممالک کی افواج غزہ میں داخل ہو سکتی ہیں۔

ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ غزہ میں بین الاقوامی فورس صرف اُن ممالک پر مشتمل ہونی چاہیے جن پر اسرائیل کو اعتماد ہو۔

خبر ایجنسیوں کے مطابق امریکا نے اپنے فوجی بھیجنے سے انکار کر دیا ہے، تاہم وہ انڈونیشیا، متحدہ عرب امارات، مصر، قطر، ترکی اور آذربائیجان سے بات چیت کر رہا ہے تاکہ وہ اس فورس میں کردار ادا کریں۔

دوسری جانب اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس بین الاقوامی فورس میں پاکستانی فوجی دستے بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی دفاعی حکام نے پارلیمانی کمیٹی کو بتایا کہ غزہ میں استحکام کے لیے بنائی جانے والی فورس میں پاکستان، انڈونیشیا اور آذربائیجان کے فوجی شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم پاکستان کی جانب سے اس بارے میں تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

پاکستانی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ غزہ میں پاکستانی افواج کی ممکنہ تعیناتی سے متعلق وضاحت وزارتِ خارجہ کرے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فورس میں

پڑھیں:

پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ

میانمار میں پاکستان کے سفیر طارق کریم(Tariq kareem) نے اپنی رہائش گاہ پر پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام کیا۔

عشائیے میں یونین آف میانمار فیڈریشن آف چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (UMFCCI) کے صدر، نائب صدر، میانمار چیمبر آف کامرس فار فارماسیوٹیکل اینڈ میڈیکل ڈیوائسز (MCCPMD) کے چیئرمین، دیگر معروف کاروباری شخصیات اور فارمیٹیک پاکستان (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے وفد نے شرکت کی۔

اس موقع پر سفیر طارق کریم اور معزز مہمانوں کے درمیان خوشگوار اور بامقصد تبادلہ خیال ہوا، جس میں پاکستان اور میانمار کے درمیان تجارت و اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے، بالخصوص ادویہ سازی، ٹیکسٹائل اور دیگر اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے، جبکہ دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان براہ راست روابط (B2B Linkages) کو مضبوط بنانے کے امکانات پر گفتگو کی گئی

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم