data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251213-01-21

 

 

کراچی (رپورٹ: واجد حسین انصاری) سندھ اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے پارلیمانی لیڈرز نے کہا ہے کہ ڈمپرز اور واٹر ٹینکرز کے بڑھتے ہوئے حادثات میں جاں بحق ہونے والے شہریوں کے لواحقین اور عوام میں جو لاوا پک رہا ہے وہ کسی بھی وقت آتش فشاں بن کر پھٹ سکتا ہے۔ سندھ حکومت ڈمپرز اور ٹینکر مافیا کی سرپرستی کررہی ہے،اور ٹرانسپورٹ مافیا کو لگام دینے سے گریزاں ہے ،کراچی کی سڑکیں موئن جو ڈارو کا نقشہ پیش کررہی ہیں اور لوگوں سے ای چالان امریکا اور لندن والے لیے جارہے ہیں۔ ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کی چیخوں پر سندھ حکومت کی مجرمانہ خاموشی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے روزنامہ جسارت سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔جماعت اسلامی کے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر محمد فاروق فرحان نے کراچی میں ڈمپرز اور واٹر ٹینکر ز کے تیزی سے بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات اور ان کے نتیجے میں نوجوانوں اور بچوں کی ہلاکتوں پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حادثات پر عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، سندھ حکومت ٹرانسپورٹ مافیا کو لگام دینے کے بجائے ان کی سرپرستی کررہی ہے ، شہر کے مختلف علاقوں میں ڈپرز اور واٹر ٹینکرز دندناتے پھررہے ہیں اور روزانہ موٹر سائیکل سواروں کو کچل رہے ہیں جبکہ حکومت سندھ اپنی روایتی بے حسی کے مظاہرہ کررہی ہے محمد فاروق فرحان نے مزید کہا کہ پیپلز پار ٹی کی سندھ حکومت عوام کی جان و مال کے تحفظ امن وامان کے قیام ٹرانسپورٹ مافیا کو لگام دینے اور ٹریفک حادثات کی روک تھام میں ناکام ہوچکی ہے اور اپنا حق حکمرانی کھو چکی ہے۔محمد فاروق فرحان نے کہا کہ ڈمپرز اور واٹر ٹینکرز کے بڑھتے ہوئے حادثات میں شہریوں کی ہلاکتوں پر جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین اور عوام میں حکومت کے خلاف جو لاوا پک رہا ہے وہ کسی وقت بھی آتش فشاں بن کر پھٹ سکتا ہے ، فاروق فرحان نے کہا کہ حکومت کی توجہ ٹرانسپورٹ مافیا کو لگام دینے کے بجائے ای چالان اور بھاری جرمانوں پر مرکوز ہے حکومت ان مافیاز کو تحفظ فراہم کررہی ہے حکومت کی بے بسی نے عوام میں شدید اشتعال پیدا کردیا ہے۔محمد فاروق فرحان نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ٹرانسپورٹ مافیا کو لگام دے ، عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کرے، ڈمپرز اور واٹر ٹینکرز مافیا کو قانون کا پابند کرے۔سندھ اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر شبیر قریشی نے کہا ہے کہ سندھ حکومت ڈمپرز و ٹینکرز مافیا کی سرپرستی کررہی ہے کراچی میں جرائم کی وارداتیں عروج پر ہیں سندھ حکومت نے ڈمپر مافیا کو بے لگام کیا ہوا ہے اور ان کو کھلی چھٹی دی ہوئی ہے یہ روزانہ موٹر سائیکل سواروں کو کچل رہے ہیں، نہ ان کے چالان ہورہے ہیں اور نہ ہی ان کو سزائیں مل رہی ہیں شبیر قریشی نے کہا کہ کراچی کی ٹوٹی پھوٹی سڑکیں موئن جو ڈاروکا نقشہ پیش کررہی ہیں اور لوگوں سے ای چالان امریکا اور لندن والے لیے جارہے ہیں ، سارے قائدے قانون صرف موٹر سائیکل سواروں پر لاگو ہیں جبکہ ڈمپر مافیاز قانون سے ماورا ہیں میں حکومت اس دہرے معیار کی مذمت کرتا ہوں انہوں نے کہا کہ کراچی کے شہر یوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا جارہے ہے حکومت اپنی روایتی بے حسی کا مظاہرہ کررہی ہے شبیر قریشی نے کہا کہ میرا حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ ڈمپرز اور ٹینکر مافیاز کو قانون کے دائرے میں لائے ، ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لئے موثر اقدامات کرے ، شہری علاقوں میں ہیوی ٹریفک کے داخلے پر پابندی عائد کی جائے اور عوام کی جان و مال کی حفاظت کی جائے۔ سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم پاکستان کے پارلیمانی لیڈر افتخار عالم نے شہر میں بڑھے ہوئے ٹریفک حادثات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں میں ڈمپرز اور واٹر ٹینکرز دندناتے پھر رہے ہیں ، اور روزانہ موٹر سائیکل سواروں اور راہ گیروں کو کچل رہے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت تماشائی کا کردار ادا کررہی ہے جو لمحہ فکریہ ہے ان حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کی چیخوں پر سندھ حکومت کی مجرمانہ خاموشی افسوسناک اور قابل مذمت ہے حکومت آخر کب جاگے گی ؟افتخار عالم نے مزید کہا کہ کراچی کی سڑکوں پر موت رقص کررتی ہوئی نظر آرہی ہے ڈمپرز اور واٹر ٹینکرز مافیاز روزانہ موٹر سائیکل سواروں کو کچل رہے ہیں قانون نام کی کوئی چیز نہیں ہے سندھ حکومت کب ذمے داری لے گی انہوں نے کہا کہ کراچی میں ای چالان کی بھرمار ہے شہریوں سے اب تک 70کروڑ سے زائد جرمانے وصول کیے جاچکے ہیں ، مگر ڈمپر اور ٹینکرز مافیا آج بھی آزاد ہیں ان کے خلاف کارروائی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔

 

واجد حسین انصاری.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: روزانہ موٹر سائیکل سواروں ڈمپرز اور واٹر ٹینکرز محمد فاروق فرحان نے سندھ اسمبلی میں ٹینکرز مافیا ٹریفک حادثات کہا کہ کراچی جاں بحق ہونے سندھ حکومت کے لواحقین حادثات میں کراچی میں نے کہا کہ کہا ہے کہ کررہی ہے ہے حکومت حکومت کی عوام میں حکومت ا ہیں اور

پڑھیں:

بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟

وفاقی بجٹ 2026-27 کی تیاریوں کے ساتھ ہی قابل تجدید توانائی کے شعبے، بالخصوص سولر انڈسٹری کی نظریں حکومت کے ممکنہ ٹیکس اقدامات پر مرکوز ہیں۔

ملک میں بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتوں اور توانائی کے بحران کے باعث سولر توانائی کی جانب رجحان تیزی سے بڑھا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت سولر پینلز یا متعلقہ آلات پر نئے ٹیکس عائد کرتی ہے تو اس سے نہ صرف سولر سسٹمز کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ صنعت کی ترقی اور صارفین کی دلچسپی بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

مزید پڑھیں: حکومت شمسی توانائی کے فروغ کے لیے پرعزم، عوام کو سولر سسٹمز پر ریلیف برقرار

بجٹ میں سولر پنیلز پر ٹیکسز میں اضافے کے حوالے سے مختلف خبریں گردش کر رہی ہیں۔

وی نیوز نے سولر انڈسٹری کے ماہرین سے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ سولر پینلز پر ٹیکس کتنے فیصد تک بڑھایا جا سکتا ہے، اور اس سے سولر پینلز کی قیمتوں پر کیا اثر پڑے گا؟

ٹیکس کی شرح بڑھی تو قیمتوں میں اضافہ ہو جائےگا، شرجیل احمد

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سولر مارکیٹ کے ماہر شرجیل احمد سلہری کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں مختلف خبریں گردش کررہی ہیں کہ آئندہ بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کی جا سکتی ہے۔ یعنی 8 فیصد فیصد اضافہ متوقع ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو سولر پینلز اور سولر سسٹمز کی قیمتوں میں کم از کم 10 سے 12 فیصد تک اضافہ متوقع ہے، جس سے صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑےگا اور قابل تجدید توانائی کے فروغ کی رفتار بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

شرجیل احمد سلہری نے کہاکہ پاکستان کے برعکس دنیا کے بیشتر وہ ممالک جو موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہیں، وہاں گرین انرجی کی مصنوعات اور منصوبوں پر ٹیکس عائد نہیں کیا جاتا۔

ان کے مطابق ایسے ممالک سولر اور دیگر متبادل توانائی کے ذرائع کی حوصلہ افزائی کے لیے ٹیکس چھوٹ اور مختلف مراعات فراہم کرتے ہیں تاکہ صاف اور سستی توانائی کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔

’سولر پلیٹس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے‘

انجینیئر محمد حمزہ رفیع کے مطابق آئندہ بجٹ میں سولر پینلز پر 18 فیصد ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو سولر پلیٹس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

محمد حمزہ رفیع کے مطابق اگر ایسا ہو جاتا ہے تو سولر پینلز کی قیمت فی واٹ 8 سے 15 روپے تک بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں گھریلو اور کمرشل صارفین کے لیے سولر سسٹمز کی مجموعی لاگت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

انہوں نے مزید کہاکہ قیمتوں میں اضافے سے سولر توانائی کی جانب منتقل ہونے والے نئے صارفین کی حوصلہ شکنی ہوگی، کیونکہ ملک میں پہلے ہی سولر پینلز سے منسلک حکومتی پالیسیوں نے عوام کے لیے سولر پینلز کی تنصیب کو ایک مشکل فیصلہ بنا دیا ہے۔

’ٹیکس بڑھنے کی خبروں میں سولر انڈسٹری میں تشویش‘

پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے سینیئر وائس چیئرمین حسنات خان کے مطابق حکومت کی جانب سے سولر پینلز پر ٹیکس میں ممکنہ اضافے کی تجویز پر انڈسٹری میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے سولر پینلز پر موجودہ 10 فیصد ٹیکس کو بڑھا کر 18 فیصد کرنے کے دباؤ کی اطلاعات گردش کر رہی ہیں، تاہم اس حوالے سے انڈسٹری کی کوشش ہے کہ قابلِ تجدید توانائی کے اس شعبے پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے۔

حسنات خان کے مطابق اگر ٹیکس میں اضافہ کیا جاتا ہے تو اس کا براہِ راست اثر سولر سسٹمز کی قیمتوں پر پڑے گا اور صارفین کے لیے صاف توانائی حاصل کرنا مزید مہنگا ہو جائے گا۔

مزید پڑھیں: سولر، ونڈ اور ہائیڈرو پاور کے ذریعے توانائی کے حصول پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں توانائی کا بحران اور بجلی کی بلند قیمتیں پہلے ہی بڑا مسئلہ ہیں، وہاں سولر انرجی کو مزید مہنگا کرنا توانائی کے فروغ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انڈسٹری حکومت سے مسلسل رابطے میں ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ سولر انرجی کو ریلیف دیا جائے ورنہ کم از کم ٹیکس کو نہ بڑھایا جائے تاکہ عوام سستی اور ماحول دوست توانائی سے فائدہ اٹھا سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews ٹیکس میں اضافہ سولر انڈسٹری وفاقی بجٹ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • بجٹ میں اراکین پارلیمنٹ کے لاجز کی تعمیر کیلئے ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ