Jasarat News:
2026-07-24@03:39:55 GMT

 سندھ پولیس کی بہادر بیٹی اور میڈیا کی بے حسی

اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

’’پارس‘‘ ایک نایاب قیمتی پتھر کا نام ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ: جس چیز کو چھو لے، اسے سونا بنا دیتا ہے۔ یہ ایک ادبی اور روایتی عقیدہ ہے، حقیقی نہیں۔ اسی لیے ’’پارس‘‘ کو علامتی طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے، جیسے: پارس صفت انسان، وہ شخص جو دوسروں کی زندگی بدل دے، پارس کا پتھر، خوش قسمتی، تبدیلی، قیمتی شے۔  لیکن…  ذرا رکیں…

کیونکہ جو کہانی میں آپ کو سنانے جا رہا ہوں، وہ کوئی افسانہ نہیں، کوئی دیو مالائی داستان نہیں، یہ حقیقت کا زخمی مگر روشن چہرہ ہے۔ یہ کہانی ہے ڈی ایس پی پارس باکھرانی کی؛ ایک نوجوان خاتون افسر جس نے شکارپور میں ایک ایسے آپریشن کی قیادت کی جو کسی بھی ہالی ووڈ فلم کا سین ہوتا تو میڈیا پاگل ہو جاتا، ٹاک شوز کا خون کھول جاتا، اور اینکرز کی آوازیں گونجنے لگتیں۔ لیکن یہاں سچائی میں کیا ہوا؟

پارس نے آپریشن کے دوران نو (9) خطرناک ڈاکوؤں کو جہنم واصل کیا۔ گولیاں چلیں، فائرنگ ہوئی، دھواں اٹھا، موت رقص کرتی دکھائی دی… اور اسی آگ کے بیچ پارس اور اس کے شوہر ڈی ایس پی ظہور سومرو خود بھی شدید زخمی ہو گئے۔ آج پاکستان میں کتنے لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جان پر کھیل کر نو مسلح ڈاکو مارے؟ کتنی خواتین افسران ایسی مثالیں قائم کرتی ہیں؟ کتنے جوڑے ایک ساتھ مقابلہ کرتے ہیں؟ یہ کسی فلم کا سین ہوتا تو میڈیا اسے ’’تاریخی سیکوئنس‘‘ بنا کر دکھاتا۔ مگر ٹوئسٹ یہ ہے کہ یہاں پرانی بیماری پھر جاگ گئی۔

میڈیا کی پرانی بیماری: تعصب، طبقاتی سوچ اور لسانی بالادستی، ہمارا الیکٹرونک میڈیا آج بھی 1980 کی اس ذہنی تقسیم میں پھنسا ہوا ہے۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد یہ تین شہر ہمارے میڈیا کے ’’گولڈن سینٹر‘‘ ہیں۔ پارس کا واقعہ شکارپور میں ہوا تھا… ڈیفنس میں نہیں۔ گلشن میں نہیں۔ بحریہ ٹاؤن میں نہیں۔ اس لیے میڈیا کی آنکھوں پر پٹی رہی، کان بند رہے، اور ڈیسک ایڈیٹرز کی ترجیحات وہی رہیں: ’’چھوٹا شہر؟ اندر کا صفحہ دے دو‘‘۔ لیکن اگر کراچی میں دو موبائل چور پکڑے جائیں، یا لاہور میں کسی بائیک والے کو گاڑی ٹکر مار دے، یا پشاور میں کوئی مجرم فرار ہو جائے تو… بریکنگ نیوز، لائیو ٹکر، رپورٹر کی دوڑ، اینکر کی لمبی تقریریں اور اگلے دن ہر اخبار میں ہیڈ لائن مگر سندھ کے ایک چھوٹے سے شہر میں ایک لڑکی جی ہاں، لڑکی اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر نو ڈاکو مار دے؟ تو خبر کس صفحے پر آتی ہے؟ صفحہ نمبر 2 یا 3، ایک تین لائن کی خبر کے ساتھ۔ یہی تعصب اس ملک کے چھوٹے شہروں کے عوام کو میڈیا سے متنفر کر رہا ہے۔ایک دفعہ کراچی میں ایک شیر شاہراہِ فیصل پر نکل آیا تو پورا میڈیا دیوانہ ہو گیا تھا۔ چار چار گھنٹے لائیو کوریج۔ ’’شیر کہاں گیا؟‘‘، ’’شیر اب کس گھر میں گھس گیا؟‘‘یہ شیر کسی وڈیرے کا لگ رہا ہے۔ نہیں یہ کسی سرمایہ کار کا ہوگا مگر یہاں ایک شیرنی ہاں، شیرنی، 9 خونخوار انسان نما درندوں کو مار کر خود زخمی ہو گئی اور ہمارا یہ الیکٹرونک میڈیا تعصب، سرمایہ دارانہ سوچ اور لسانی بالادستی کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے۔ ڈی ایس پی پارس باکھرانی نے نو ڈاکو مارے، خود گولیاں کھائیں، خاوند زخمی ہوا، خون بہا… لیکن میڈیا چینلوں کی بے حسی نہیں ٹوٹی۔ کیوں؟ کیونکہ یہ واقع کراچی سے 500 کلومیٹر دور شکارپور میں پیش آیا۔ بہادری، قربانی اور جذبے کی یہ مثال کسی بھی میڈیا کی ہیڈ لائن بننے کے لیے کافی تھی، لیکن افسوس کہ ہمارے میڈیا نے اسے نظرانداز کیا۔ اور وہ کسی اخبار کے دوسرے یا تیسرے صفحے پر چھوٹی سی خبر بنی، کیونکہ میڈیا کی چمکتی دمکتی دنیا میں تو ریٹنگ کا معاملہ ہوتا ہے تو شکار پور میں ان کو کیا ریٹنگ ملتی، ہم لوگ تو اپنا مفاد عزیز رکھنے والے کامیاب بزنس مین ہیں۔

کراچی، لاہور، اسلام آباد یہ تین شہر ہمارے میڈیا کے ’’گولڈن سینٹر‘‘ ہیں۔ ان کے باہر کی خبریں میڈیا کے لیے آکسیجن نہیں، صرف کاربن ڈائی آکسائیڈ ہیں۔ لہٰذا قومی میڈیا کی آنکھوں پر پٹی رہی، کان بند رہے، اور ڈیسک ایڈیٹرز کی ترجیحات وہی رہیں: ’’چھوٹا شہر؟ اندر کا صفحہ دے دو‘‘۔ یہی تعصب اس ملک کے چھوٹے شہروں کے عوام کو میڈیا سے متنفر کر رہا ہے۔ اور یہی تعصب معاشرے میں تقسیم بڑھا رہا ہے۔ افسوس یہ کہ صرف ٹی وی چینل نہیں، پرنٹ میڈیا بھی اسی مرض کا شکار ہے۔ ہر بڑے اخبار میں اندرون سندھ کے رپورٹرز کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو ایک ’’بڑے شہر‘‘ کے رپورٹر کو حاصل ہوتی ہے۔ خبر کا معیار نہیں، شہر کا نام فیصلہ کرتا ہے کہ خبر صفحہ اوّل پر جائے گی یا نہیں۔ یہی نظام، یہی غیر منصفانہ اسٹرکچر پاکستان کے ہر ہیرو کے چہرے پر دھول جھونکتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ جب ڈی ایس پی پارس باکھرانی جیسا واقعہ سامنے آتا ہے، تو پسماندہ علاقے کے لوگ پوچھتے ہیں: ’’کیا ہماری بہادری کا قصور یہ ہے کہ ہم کراچی یا لاہور یا اسلام آباد میں نہیں رہتے؟‘‘ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ میڈیا کا کردار صرف خبر دینا نہیں، بلکہ ملک کو جوڑنا، احترام دینا، ہمت کو سراہنا اور قومی جذبے کو زندہ رکھنا بھی ہے۔ لیکن جب میڈیا خود تقسیم کا ذریعہ بن جائے تو پھر معاشرے کا زخم کون بھرے؟

 

امیر محمد خان کلوڑ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ڈی ایس پی میڈیا کی میں نہیں رہا ہے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن