عالمی دبائو ،اسرائیل کا غزہ کیلئے اردن بارڈر کھولنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
ایلینبی کراسنگ کو غزہ کیلئے انسانی امداد اور تجارتی سامان کی ترسیل کیلئے دوبارہ کھول دیا گیا
اسرائیل کی خلاف ورزیاں جاری ہیں جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ آگے نہیں بڑھ سکتا ، حماس
عالمی دبائو بڑھنے کے بعد اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ اردن کے ساتھ واقع ایلینبی کراسنگ کو غزہ کیلئے انسانی امداد اور تجارتی سامان کی ترسیل کے لئے دوبارہ کھول رہا ہے۔ یہ کراسنگ 23 ستمبر سے بند تھی، تاہم اب اسے اب کھولا جا رہا ہے۔جبکہ حماس نے خبردار کیا ہے کہ جب تک اسرائیل کی جانب سے خلاف ورزیاں جاری ہیں غزہ میں جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔غیرملکی میڈیارپورٹ کے مطابق اسرائیلی سکیورٹی حکام کے مطابق بارڈر کھلنے کے بعد ڈرائیورز اور کارگو ٹرکس کی سخت اسکریننگ کی جائے گی جبکہ اضافی سکیورٹی اہلکار بھی تعینات کر دئیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جاسکے۔دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیلی افواج غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری رکھتی ہیں تو موجودہ جنگ بندی معاہدہ اپنے دوسرے مرحلے میں داخل نہیں ہوسکتا۔ حماس نے غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے سے قبل اسرائیلی فوج کی خلاف ورزیوں کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔حماس کے ایک اعلی عہدیدار نے کہا ہے کہ جب تک اسرائیل کی جانب سے خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ غزہ میں جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔انہوں نے ثالثوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر معاہدے کی پاسداری کے لئے دبا ڈالیں ۔حماس کے سیاسی شعبے کے رکن حسام بدران نے کہاکہ جب تک قابض قوت (اسرائیل) معاہدے کی خلاف ورزی کرتی رہے گی۔اپنے وعدوں سے بچنے کی کوشش کرے گی، جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ شروع نہیں ہوسکتا۔ بدران کے مطابق حماس نے ثالثی کرنے والے ممالک سے درخواست کی ہے کہ وہ اسرائیل پر پہلے مرحلے کی مکمل تکمیل کے لیے دبا بڑھائیں۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے مطابق غزہ میں جنگ بندی کا پہلا مرحلہ جاری ہے۔لیکن اس کے باوجود اسرائیل کی جانب سے خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ خلاف ورزیاں جاری اسرائیل کی کے مطابق کی خلاف
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔