سندھ بلڈنگ کا محکمہ عمارتی بے قاعدگیوں کا اڈہ بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
محمودآباد کے رہائشی پلاٹ سی 399پر غیر قانونی تجارتی تعمیرات کی دھما چوکڑی جاری
رہائشی پلاٹوں پر کمرشل یونٹس ، ڈائریکٹر شاہد خشک پر ‘منافع بخش خاموشی’ کے الزامات
کراچی (اسٹاف رپورٹر)شہر کے گنجان آباد علاقے محمودآباد کے رہائشی پلاٹ سی 399 پر دکانیں اور کمرشل پورشن یونٹس کی غیر قانونی تعمیرات نے شہری انتظامیہ کے ناکام ہونے کی داستان رقم کر دی ہے ۔مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر شاہد خشک کی مبینہ چشم پوشی کے باعث یہ علاقہ تعمیراتی بے ضابطگیوں کا مرکز بن چکا ہے ۔جرأت سروے کے مطابق، محمودآباد نمبر 2 کے رہائشی زون میں واقع پلاٹ سی 399 بالمقابل ایچ بی ایل کنیکٹ سینٹر پر بغیر کسی قانونی اجازت یا منظوری کے متعدد دکانیں اور تجارتی یونٹس تعمیر کیے جا رہے ہیں، جس سے نہ صرف علاقے کی منصوبہ بندی بری طرح متاثر ہو رہی ہے بلکہ پانی، گیس اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے پر بھی غیرضروری دباؤ پڑ رہا ہے ۔مقامی رہائشیوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہوں نے اس مسئلے پر متعدد بار سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو آگاہ کیا، حتیٰ کہ تحریری شکایات بھی جمع کروائیں،مگر ڈائریکٹر شاہد خشک سمیت کسی بھی افسر نے کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی۔ یہی ‘منافع بخش خاموشی’ غیرقانونی تعمیرات کو فروغ دے رہی ہے ۔شہری منصوبہ بندی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی میں رہائشی اور تجارتی زون کی واضح تقسیم موجود ہے ، اور رہائشی علاقوں میں کمرشل تعمیرات کی اجازت نہیں ہے ۔ ایسی غیر قانونی تعمیرات نہ صرف شہری منصوبہ بندی کو تباہ کرتی ہیں بلکہ حفاظتی خطرات بھی پیدا کرتی ہیں۔عوام کا مطالبہ ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل فوری طور پر اس معاملے میں مداخلت کریں،غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کریں، اور الزامات میں ملوث افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے ایک ٹرانسپیرنٹ انکوائری کمیشن قائم کریں۔اب سوال یہ ہے کہ کیا کراچی میں عمارتی قوانین کا احترام ہوگا، یا پھر ‘تعمیراتی مافیا’ اور سرکاری افسران کے گٹھ جوڑ سے شہر کی منصوبہ بندی تباہ ہوتی رہے گی؟
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: قانونی تعمیرات سندھ بلڈنگ
پڑھیں:
حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اہلِ سنت پاکستان کراچی کے وفد نے حضرت علامہ سید شاہ عبد الحق قادری کی قیادت میں سندھ کے صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دینی امور، مساجد، مدارس، محکمہ اوقاف کے زیر انتظام مزاراتِ اولیائے کرام کی دیکھ بھال زائرین کو سہولیات کی فراہمی سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد میں سید رفیق شاہ، مفتی بلال قادری، مولانا جمیل احمد امینی، عبداللہ میمن اور شفیع رانا قادری بھی شامل تھے۔ وفد نے صوبائی وزیر کو کراچی سمیت سندھ بھر میں مساجد، مدارس اور مزارات کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور مختلف تجاویز پیش کیں۔
شاہ عبد الحق قادری نے اس موقع پر کہا کہ حکومتی ادارے مساجد، مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان کریں۔ انہوں نے محکمہ اوقاف کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے، انتظامی مسائل کے حل اور مسلسل رابطہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔