سندھ بلڈنگ، ماڈل کالونی میں رہائشی پلاٹ پر غیرقانونی پورشن یونٹ
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
پلاٹ سی-216 پر دکانیں اور پورشن یونٹ کا غیرقانونی قیام رہائشیوں کی بے چارگی
اسسٹنٹ ڈائریکٹر ذوالفقار بلیدی کی خصوصی خدمات ، ڈائریکٹر سمیع جلبانی کی چشم پوشی
ضلع کورنگی کے علاقے ماڈل کالونی کے رہائشی پلاٹ سی-216 شیٹ نمبر 6پر دُکانیں اور پورشن یونٹ کھل چکے ہیں، جبکہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران گویا آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں۔یہ پلاٹ واضح طور پر رہائشی زون میں واقع ہے ، جہاں کسی بھی قسم کی تجارتی سرگرمی یا غیرمنصوبہ بندی تعمیر ممنوع ہے ۔جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ان غیرقانونی تعمیرات کی وجہ سے نہ صرف علاقے کا پرسکون ماحول تباہ ہوا ہے ، بلکہ پارکنگ، ٹریفک اور صفائی کے شدید مسائل بھی پیدا ہو گئے ہیں۔ حاصل معلومات کے مطابق،سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ذوالفقار بلیدی کے خصوصی تعاون سے ہی یہ غیرقانونی تعمیرات ہو رہی ہیں۔اطلاعات ہیں کہ بلیدی صاحب ماڈل کالونی اور آس پاس کے علاقوں میں رہائشی پلاٹوں کو تجارتی یونٹ میں تبدیل کروانے کا پیکیج پیش کرتے ہیں، معاوضہ نقد، بغیر رسید۔دوسری جانب اتھارٹی کے ڈائریکٹر سمیع جلبانی تک بار بار شکایات پہنچنے کے باوجود انھوں نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ادارے کے اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ جلبانی صاحب بلیدی کے کاموں سے واقف ہیں، مگر نظام چل رہا ہے ،کے فلسفے کے تحت خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔علاقے کے مکینوں نے سخت غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ یا تو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اپنا کام کرے ،یا پھر اپنے دفتر کے باہر تختی لگا دے ۔یہاں صرف غیرقانونی تعمیرات کی اجازت نامہ جاری کیا جاتا ہے ۔ مکینوں کا اصرار ہے کہ پلاٹ سی۔216 پر تمام غیرقانونی ڈھانچے فوری طور پر گرائے جائیں اور ذوالفقار بلیدی سمیت ملوث افسران کے خلاف فوری قانونی و انتظامی کارروائی کی جائے ۔ عوام کو امید ہے کہ اعلیٰ حکام اس معاملے میں فوری اور مؤثر اقدامات کریں گے ، تاکہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بن سکے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: سندھ بلڈنگ
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔