المسلم سوسائٹی سیکٹر 34اے پلاٹ نمبر 09پر تعمیراتی لاقانونیت کی کھلی چھٹی مل گئی
ڈائریکٹر شاہد خشک کی چشم پوشی ، رہائشیوں کی تحریری شکایات مگر کارروائی سے گریز
ضلع شرقی کے علاقے اسکیم 33میں واقع آل مسلم کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی،سیکٹر 34/A پلاٹ نمبر 09 پر تعمیر کردہ بینک کی عمارت کے خلاف ضابطہ تعمیر پر ملی بھگت کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے مقامی رہائشیوں کا دعویٰ ہے کہ متعلقہ محکمے کے ڈائریکٹر شاہد خشک نے مبینہ طور پر اس غیر قانونی تعمیر پر چشم پوشی برتتے ہوئے تعمیراتی مافیا کو کھلی چھٹی دے دی ہے۔ رہائشیوں کی متعدد تحریری شکایات کے باوجود محکمے کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔مقامی پلاننگ کے قواعد و ضوابط کے مطابق، سوسائٹی کے رہائشی پلاٹوں پر تجارتی تعمیرات کی اجازت نہیں ہے اور اس تعمیر میں ضروری نوٹس، نقشوں کی منظوری اور این او سی جاری کرنے کے عمل کو یکسر نظرانداز کیا گیا ہے ۔ رہائشیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ عمارت میں پارکنگ کا انتظام مقررہ حدود سے تجاوز کرتا ہے ۔سماجی کارکنوں اور علاقے کے نمائندوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈائریکٹر شاہد خشک سمیت تمام متعلقہ افسران کے خلاف فوری تحقیقات کی جائیں اور غیر قانونی تعمیر کو گرانے کے ساتھ ساتھ مجرمانہ غفلت برتنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر افسران کی ملی بھگت سے تعمیراتی مافیا کو روکنے کے بجائے سپورٹ کیا جاتا رہا، تو شہریوں کا بنیادی حقِ رہائش خطرے میں پڑ جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن