بی جے پی کے جبر سے گجرات میں کسان پریشان ہیں، اروند کیجریوال
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
دہلی کے سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ بی جے پی حکومت کے ذریعہ گجرات کے ہر خاندان کو مکمل طور سے برباد کیا جا رہا ہے، اب بی جے پی حکومت کے گجرات میں آخری دن چل رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ راجکوٹ جیل میں بند کسانوں سے نہ ملنے دینے پر عام آدمی پارٹی کے قومی سربراہ اروند کیجریوال نے گجرات کی بی جے پی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ تین روزہ دورے پر گجرات آئے اروند کیجریوال نے کہا کہ میں نے درخواست دی تھی، لیکن حکومت نے ملنے کی اجازت نہیں دی۔ اروند کیجریوال کا کہنا ہے کہ گجرات میں ایک طرف کسان بی جے پی حکومت کے جبر سے پریشان ہے تو دوسری طرف قرض لے کر پڑھنے والے بچے پیپر لیک ہونے کے سبب بے روزگار ہیں۔ اروند کیجریوال نے دعویٰ کیا کہ گجرات کے لوگ اب متحد ہو رہے ہیں اور بی جے پی کی 30 سالہ بدتر حکمرانی کو ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
اروند کیجریوال کے مطابق گجرات ایک زرعی ریاست ہے۔ گجرات کی 50 فیصد آبادی زراعت سے اپنی روزی روٹی کماتی ہے۔ گجرات میں تقریباً 54 لاکھ کسان خاندان کسانی پر منحصر ہیں لیکن آج گجرات میں کسانوں کا بہت برا حال ہے، کسان بہت پریشان ہیں۔ کسانوں کو بیج نہیں ملتا، کھاد کے لئے لمبی لمبی قطاریں لگ رہی ہیں، کسانوں کو فصل کی مکمل قیمت نہیں ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ کسانوں کے ساتھ ناانصافی کر رہے ہیں، فصل کی قیمت 1500 تک طے ہوتی ہے لیکن کسانوں کو 1200 روپے ہی دیتے ہیں۔
دہلی کے سابق وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے کہا کہ 2 ماہ قبل گجرات کے ہڑدڑ میں "کَردا پرتھا" کے خلاف کسان اکٹھے ہوئے تھے۔ ظالم بی جے پی حکومت نے کسانوں پر لاٹھیاں برسائیں، آنسو گیس کے گولے چھوڑے۔ پولیس نے بے قصور کسانوں کے گھروں میں داخل ہو کر کنبہ کے غیر مسلح لوگوں اور پرامن طور پر مطالبات کر رہے 88 کسانوں کو گرفتار کیا تھا۔ کسانوں پر فرضی مقدمے درج کئے گئے اور 2 ماہ سے یہ کسان جیل میں بند ہیں۔ اس میں سے اب تک 42 کسانوں کی ضمانت ہوگئی ہے اور بقیہ اب بھی جیل میں بند ہیں، جس روز ضمانت کے متعلق عدالت میں سماعت ہوتی ہے اس دن پولیس عدالت ہی نہیں پہنچتی ہے۔
اروند کیجریوال کا کہنا ہے کہ پیر کو جیل میں بند اور ضمانت پر باہر آئے کسانوں کے خاندانوں سے ملاقات کی۔ جیل میں ان کو دی گئی اذیتوں کی کہانیاں سن کر رونا آ جائے گا۔ جیل سے باہر آئے کسانوں کے بچوں نے بتایا کہ گرفتاری کے بعد 24 گھنٹے تک انہیں پانی نہیں دیا گیا اور نہ ہی کھانے کے لیے کچھ دیا گیا، پولیس نے ان کی پٹائی بھی کی۔ اروند کیجریوال کے مطابق ایک طرف کسان پریشان ہیں اور دوسری طرف کسانوں کے بچے جیل میں ہیں۔ کسان سود پر لاکھوں روپے قرض لے کر اپنے بچوں کو پڑھاتے ہیں، جب یہ بچے ملازمت کے لئے مسابقتی امتحان دینے جاتے ہیں تو پیپر لیک ہو جاتا ہے۔ اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی حکومت سے نوجوانوں کو روزگار نہیں دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی حکومت کے ذریعہ گجرات کے ہر خاندان کو مکمل طور سے برباد کیا جا رہا ہے، اب بی جے پی حکومت کے گجرات میں آخری دن چل رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت کے جیل میں بند کسانوں کو کسانوں کے گجرات میں نے کہا کہ گجرات کے رہے ہیں
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔