کیا پاکستان میں سولر پینل کی مینوفیکچرنگ ممکن ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
دنیا کے سب سے بڑے سولر پینل بنانے والے اداروں میں سے ایک(LONGi) کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مقامی سطح پر سولر پینل کی مینوفیکچرنگ فی الحال معاشی طور پر قابلِ عمل نہیں ہے۔
یوٹیلیٹی اسکیل سولر منصوبے بھی مختلف ساختی رکاوٹوں کا سامنا کر رہے ہیں، جو ملک کی سولر ٹرانزیشن کی رفتار سست کر سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چینی کمپنی پاکستان میں سولر پینل فیکٹری لگانے کے لیے تیار؟
(LONGi) کے سربراہ برائے پاکستان و افغانستان عثمان محمد نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ موجودہ حالات میں پاکستان میں سولر پینلز کی اسمبلی عالمی معیار کے مطابق بڑے پیمانے پر ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی سطح پر تیار کیے گئے پینل بنیادی طور پر صرف گھریلو استعمال کے لیے ہیں اور عالمی منڈی میں مسابقت نہیں کر سکتے۔
عثمان کے مطابق پیداوار کے اخراجات، مزدوری اور کوالٹی کنٹرول کے تقاضے پینل کی قیمت میں تقریباً 30 فیصد اضافہ کر دیتے ہیں جبکہ معیار بھی کچھ کم ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک حکومتی پالیسیاں مضبوط کاروباری بنیادیں فراہم نہیں کرتیں تب تک عالمی ادارے مقامی مینوفیکچرنگ میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے سے گریز کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سولر صارفین کے لیے سرپرائز، نئے میٹر کی شرط کیوں لگائی گئی؟
ان کا کہنا تھا کہ یوٹیلیٹی اسکیل منصوبوں کو زمین کی دستیابی اور ٹرانسمیشن کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ بڑے پلانٹس کے لیے ہزاروں ایکڑ زمین درکار ہوتی ہے جو ایک زرعی ملک میں حاصل کرنا مشکل ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسمیشن لائنیں اکثر کم استعمال ہوتی ہیں جس سے منصوبوں کی مجموعی لاگت بڑھ جاتی ہے۔
ان کے مطابق سرمایہ کاروں کو بجلی گھروں کی کارکردگی اور ٹرانسمیشن کی صلاحیت کے درمیان اس عدم توازن کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے جو یوٹیلیٹی اسکیل سولر کی ترقی کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اب سولر کو آپ بھول جائیں، امریکی ’انورٹر بیٹری‘ نے پاکستان میں تہلکہ مچا دیا
اس کے باوجود، پاکستان میں متبادل توانائی، خصوصاً سولر، کی طرف رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے اور یہ گھریلو اور تجارتی شعبوں میں بہت مقبول ہو چکا ہے۔ پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ فار ایکویٹ ایبل ڈیولپمنٹ (PRIED) کے مطابق پاکستان میں سولرائزیشن تاریخی سطح تک پہنچ چکی ہے اور ملک بھر میں 33 گیگاواٹ سولر فوٹو وولٹائک (PV) پینل نصب کیے جا چکے ہیں۔
یہ بڑھتا ہوا رجحان پالیسی سازوں کے لیے قومی گرڈ اور توانائی کے مستقبل کے حوالے سے نئے چیلنجز پیدا کر رہا ہے، اگرچہ بجلی کی مجموعی کھپت تقریباً ویسی ہی ہے۔ اس کے باوجود، سستی توانائی کے اس ذریعے سے فائدہ اٹھانے کے لیے متعدد منصوبے شروع کیے جا چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سولر سولر پینل سولر پینل پلیٹس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سولر سولر پینل پاکستان میں سولر سولر پینل کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :