قومی اسمبلی میں پیپلزپارٹی کی حکومت پر تنقید،پی ٹی آئی کاعمران خان کی تصاویر اٹھاکراحتجاج،نعرےبازی
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
پینل آف دی چیئر علی زاہد کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں پیپلزپارٹی کے اراکین نے شور شرابہ کیا جب کہ پی ٹی آئی اراکین نے ایوان میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی تصاویر اٹھا کر احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔
قومی اسمبلی اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران آغا رفیع اللہ نے کہا کہ اراکین محنت کر کے سوالات لاتے ہیں، صرف گول مول جواب دیے جاتے ہیں اور صرف ٹی اے ڈی اے بنایا جاتا ہے، یہاں جو کتابوں میں جو لکھا جاتا ہے اس کا 10 فیصد بھی نہیں ہے، وزیر صاحب ایف ای بی کے ٹال فری نمبر پر ابھی کال کریں کوئی جواب آئے تو بتا دیں۔
وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ رکن قومی اسمبلی کے سوال کا جواب تفصیلی دیا گیا ہے، لابی میں جا کر ٹال فری نمبر پر بھی کال کر لیتے ہیں، یہ جو یہاں تقریر کر رہے ہیں یہ سیاسی ہے۔
پینل آف چیئر علی زاہد نے آغا رفیع اللہ اور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کو لابی میں بیٹھ کر معاملات حل کرنے کی ہدایت کر دی۔
اس دوران پی ٹی آئی اراکین ایوان میں پہنچ گئے، اراکین نے بانی پی ٹی آئی کی تصاویر اٹھا کر احتجاج کیا، اپوزیشن اراکین نے ایوان میں نعرے بازی کی۔
اپوزیشن اراکین نے نقطہ اعتراض مانگ لیا ، پینل آف چیئر نے وقفہ سوالات کے دوران نقطہ عتراض دینے سے معزرت کر لی اور کہا کہ وقفہ سوالات میں نقطہ عتراض نہیں دیا جائے گا۔
اس دوران اپوزیشن رکن اقبال افریدی نے کورم کی نشاندہی کر کردی، پینل آف چیئر کی عملے کو اراکین کی گنتی کی ہدایت کی، کورم سے متعلق اراکین کی گنتی میں ایوان میں کورم پورا نکلا۔
نبیل گبول نے کہا کہ بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کا کوئی سینٹر میرے حلقے میں نہیں ہے، خواتین وہاں رش کی وجہ سے بے ہوش ہو جاتی ہیں، وہاں بیٹھے لوگ کرپشن کر رہے ہیں 15 سو روپے ہر خاتون سے لیتے ہیں۔
وفاقی وزیر پیر عمران شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اس کو شفاف بنانے کی ہدایت کی ہے، مارچ 2026 تک سارا نظام ڈیجیٹل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ہماری حکومت میں کوئی کرپشن نہیں ہوگی۔
آغا رفیع اللہ نے کہا کہ یہاں وزیر تو کوئی ہے نہیں سوالوں کے جوابات کون دے گا، اپوزیشن کا کردار ہم ادا کر رہے تو ہماری حوصلہ افزائی کریں۔
پینل آف چیئر علی زاہد نے کہا کہ وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری صاحب یہاں ہیں،آغا رفیع اللہ نے کہا کہ طارق فضل صاحب اپنی باتوں میں لگے ہوئے ہیں، آئیں طارق فضل چوہدری صاحب کوئی حساب کتاب کر لیں۔
اس دوران اپوزیشن رکن اقبال افریدی نے دوبارہ کورم کی نشاندہی کر دی، کورم سے متعلق ایوان میں اراکین کی تعداد گنی گئی تو حکومت کورم پورا کرنے میں ناکام رہی۔
پینل آف دی چیئر علی زاہد نے کہا کہ ایوان میں 63 اراکین موجود ہیں، پینل آف دی چیئر کے اعلان کے دوران پیپلزپارٹی کے اراکین نے شور شرابہ کیا، قومی اسمبلی کے اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا گیا۔
اجلاس کے بعد پیپلز پارٹی رہنما عبدالقادر پٹیل نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ابھی وقفہ سوالات کے دوران میرا سوال مکمل نہیں ہوا تھا کہ کیسے کسی ممبر کا مائیک کھول کر کورم کی اجازت دی گئی۔
مسلم لیگ ن کے رہنما جا کر لابی میں بیٹھ گئے، یہ سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا گیا، شہید بے نظیر بھٹو ائیرپورٹ کی جگہ تبدیل ہو گئی تو اسکا نام کیسے تبدیل ہو گیا؟ کیا نادرہ آفس کی بلڈنگ تبدیل ہونے سے اسکا نام تبدیل ہو جائے گا؟ کیا پارلیمنٹ کی بلڈنگ کی جگہ تبدیل ہو تو اسکا نام بھی تبدیل ہوگا؟
ان کا کہنا تھا کہ شہید بے نظیر کو کسی تعریف کی ضرورت نہیں، چھوٹی سوچ کے لوگ ہیں، ہمیشہ چھوٹے ہی رہیں گے، آپ ایک ایئرپورٹ کا نام چھپاتے پھر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کیسی بھونڈی سازش ہے؟ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ پر چیز کا ڈٹ کا مقابلہ کیا، حکومت نے جواب نہ دیا تو پیپلز پارٹی میٹنگ میں طے کر کے فیصلہ کرے گی کہ آگے کیا لائحہ عمل ہو گا۔
پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شایہ مری نے کہا کہ اگر آپکو لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی اسمبلی میں صرف تماشا لگانے آئے گی تو ایسا نہیں ہے، کیا آج بھی وہ بغض ہے کہ ایک ایئرپورٹ کا نام نہیں رکھا جا رہا؟ وزیراعظم نے مطالبہ کرتی ہوں کہ اپنی بات کو یاد کریں جو آپ نے خاتون اول سے کی ہے۔
شازیہ مری کا کہنا تھا کہ لوگ اپنی زندگی میں ہی ایسی ایسی چیزوں کو اپنے نام پر کرتے ہیں کہ دیکھ کے حیرت ہوتی ہے، محترمہ بے نظیر نے تو اپنی زندگی میں کچھ نہیں کہا، وہ ایک عظیم لیڈر تھیں، پی ٹی آئی پرو مودی چینلز پر جا کر پاکستان کے خلاف باتیں کر رہے ہیں، ہمارے تو انہی عدالتوں نے بد ترین فیصلے سنائے۔
انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار بھٹو کو فیئر ٹرائل نہیں ملا، مگر اسکے باوجود ہم نے کوئی عمارت نہیں جلائی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: طارق فضل چوہدری چیئر علی زاہد آغا رفیع اللہ پینل آف چیئر وقفہ سوالات پیپلز پارٹی قومی اسمبلی کر رہے ہیں اراکین نے ایوان میں پی ٹی آئی نے کہا کہ کے دوران تبدیل ہو کا نام
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔