ایران نے انسانی حقوق کی نوبیل انعام یافتہ کارکن نرگس محمدی کو گرفتار کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
ایرانی حکام نے نوبیل امن انعام یافتہ اور انسانی حقوق کی سرگرم رہنما نرگس محمدی کو جمعہ کے روز دوبارہ گرفتار کر لیا ہے۔
نرگس کے فاؤنڈیشن کے مطابق نرگس محمدی کو ایرانی سیکیورٹی اور پولیس اہلکاروں نے خسرو علیکردی جو حال ہی میں اپنے دفتر میں مردہ پائے گئے تھےکی یادگاری تقریب کے دوران حراست میں لیا۔
یہ بھی پڑھیے: ’جنگ کبھی جمہوریت، انسانی حقوق یا آزادی نہیں لاتی‘ ایرانی نوبل انعام یافتہ نرگس محمدی کی اسرائیل کی مذمت
یہ واضح نہیں کہ انہیں ایران میں کس مقام پر گرفتار کیا گیا۔
نرگس محمدی، جو ایران کی سب سے نمایاں انسانی حقوق کی وکیلوں میں شمار ہوتی ہیں، کو 2023 میں نوبیل امن انعام سے نوازا گیا تھا۔ گزشتہ 2 دہائیوں کا زیادہ تر وقت انہوں نے تہران کی بدنامِ زمانہ ایوین جیل میں گزارا، جہاں حکومت کے ناقدین کو رکھا جاتا ہے۔
دسمبر 2024 میں ایرانی حکام نے ان کی قید 3 ہفتوں کے لیے معطل کی تھی تاکہ وہ اپنی سرجری سے صحت یاب ہو سکیں۔
یہ بھی پڑھیے: نوبل امن انعام يافتہ نرگس محمدی نے جيل ميں بھوک ہڑتال شروع کردی
نرگس محمدی کو جلد ہی دوبارہ جیل منتقل کیے جانے کی توقع تھی، جہاں وہ مجموعی طور پر 31 سال قید کی سزائیں بھگت رہی ہیں۔ انہیں قومی سلامتی کے خلاف کارروائیوں اور ریاست مخالف پروپیگنڈہ پھیلانے کے الزامات کا سامنا ہے۔
گزشتہ ایک سال میں وہ مسلسل اپنی سرگرمی جاری رکھے ہوئے تھیں اور ایران میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال پر عالمی فورمز پر آواز اٹھاتی رہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایران جیل گرفتاری نرگس محمدی نوبیل انعام یافتہ کارکن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایران جیل گرفتاری نوبیل انعام یافتہ کارکن انسانی حقوق کی نرگس محمدی کو انعام یافتہ
پڑھیں:
گوجرانوالہ: ایجنٹ مافیا کے خلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، 15 گرفتار
گوجرانوالہ (نمائندہ خصوصی) ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور کی ہدایت پر گوجرانوالہ زون نے پاسپورٹ دفاتر کے باہر سرگرم ایجنٹ مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 15 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ گوجرانوالہ سرکل سے 7، گجرات سے 3 اور سیالکوٹ سے 5 ایجنٹوں کو گرفتار کیا گیا جو شہریوں سے جلد پاسپورٹ بنوانے کے نام پر رقم بٹورتے تھے۔ ابتدائی تحقیقات میں پاسپورٹ دفاتر کے بعض اہلکاروں کی ملی بھگت کے شواہد بھی ملے۔ ملزموں کے خلاف مقدمات درج کر کے مزید تفتیش جاری ہے۔