یوٹیوب میں صارفین کے لیے نیا اہم فیچر متعارف
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گوگل کی زیر انتظام دنیا کی سب سے بڑی ویڈیو شیئرنگ ایپلیکیشن یوٹیوب نے صارفین کے تجربے کو مزید دلچسپ بنانے کے لیے ایک نیا فیچر متعارف کرایا ہے۔
یوٹیوب کی موبائل ایپ کی ترقی اور اس کے فیچرز مسلسل بدلتی ہوئی صارف عادات کے مطابق ڈھالے جا رہے ہیں اور حال ہی میں کمپنی نے شارٹس کی تیاری کو مزید آسان بنانے کے لیے ایک نیا create موڈ متعارف کرایا ہے۔
ابتدائی طور پر یوٹیوب ایپ کا مقصد صارفین کو ویڈیوز دیکھنے میں سہولت فراہم کرنا تھا، مگر اب کمپنی کا فوکس مواد تخلیق کرنے والوں کی ضروریات اور مختصر ویڈیوز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت پر ہے۔
اینڈرائیڈ پولیس کی رپورٹ کے مطابق یہ نیا create موڈ ایپ میں پلس آئیکون پر کلک کرتے ہی فعال ہوگا اور صارفین کو متعدد ٹولز فراہم کرے گا، جن میں تصاویر، ویڈیو کلپس، گرین اسکرین بیک گراؤنڈز، میوزک ٹریکس اور دیگر تخلیقی مواد تیار کرنے کی سہولت شامل ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی اس موڈ میں اے آئی پر مبنی ٹولز بھی موجود ہوں گے، جو ممکنہ طور پر صارفین کو تخلیق کے عمل میں رہنمائی فراہم کریں گے۔
گوگل نے واضح نہیں کیا کہ اے آئی کس طرح تصاویر اور ویڈیوز تیار کرنے میں مدد دے گا، تاہم امکان ہے کہ صارفین کو ایک پروموٹ تحریر یا ہدایات کے ذریعے مطلوبہ مواد تخلیق کرنے کی سہولت ملے۔
یہ نیا موڈ مکمل طور پر نیا تجربہ نہیں، کیونکہ یوٹیوب ایپ میں پہلے بھی کچھ تجرباتی اے آئی فیچرز موجود تھے جو ویڈیوز اور تصاویر تیار کرنے کے لیے استعمال کیے جا سکتے تھے، اور ممکنہ طور پر نئے موڈ میں یہ ٹولز انہی تجرباتی فیچرز کی طرح کام کریں گے۔
اس وقت create موڈ محدود صارفین کے لیے دستیاب ہے اور کمپنی کا مقصد یہ ہے کہ شارٹس بنانے کے لیے نئے اور آسان ذرائع کی آزمائش کی جا سکے، تاکہ تخلیق کاروں کو زیادہ سہولت میسر آئے اور یوٹیوب کی مقابلہ بازی دیگر پلیٹ فارمز کے ساتھ بہتر ہو سکے۔ یہ اقدام کمپنی کی جانب سے مواد تخلیق اور صارف کے تجربے کو فروغ دینے کی حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔