سہیل آفریدی کی واپسی پر یوٹیوبر اور کارکنوں میں جھڑپ
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
وزیراعلیٰ کی اڈیالہ سے واپسی کے دوران یوٹیوبر اور کارکنوں میں جھڑپ بھی دیکھنے میں آئی۔ اطلاعات کے مطابق یوٹیوبر نے کارکن پر حملہ کیا اور کارکن نے بھی اسے مکوں سے مارا۔ یوٹیوبر سہیل آفریدی سے ملاقات کی کوشش کر رہا تھا، جس پر کارکنان نے اسے روکنے کی کوشش کی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب کارکن نے وزیراعلیٰ کی گاڑی کی ویڈیو بنانے پر اعتراض کیا۔ پی ٹی آئی کے کچھ کارکنان نے یوٹیوبر پر الزام لگایا کہ وہ علی امین گنڈا پور کے بھیجے ہوئے شخص ہیں اور ڈی آئی خان سے آئے یوٹیوبر کو پیسے دینے کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ واقعہ پارٹی کارکنان کے درمیان موجودہ کشیدہ حالات اور سیاسی تنازعات کی عکاسی کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
علیمہ خان (فائل فوٹو)۔بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے نے کہا کہ حکمراں اتنے خوفزدہ ہیں کہ بشریٰ بی بی کی فیملی کو بتایا ہوا ہے باہر جا کر بات نہیں کرنا۔
راولپنڈی میں گورکھپور فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے اور خوفزدہ ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی گورکھ پور ناکے پر پہنچ گئے، سہیل آفریدی سرکاری پروٹوکول میں گورکھ پور ناکے پر پہنچے۔
انھوں نے کہا کہ آج اڈیالہ جیل کے اطراف کرفیو لگایا گیا ہے، بازار بھی بند کیا گیا ہے، ہمارا آئینی حق ہے کہ ہم اپنے بھائی سے ملیں، بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھ کر ٹارچر کیا جا رہا ہے۔
علیمہ خان نے کہا کہ میرے خلاف بھی کیس چل رہا ہے مجھے بھی جیل میں ڈال دیں۔