این آئی سی وی ڈی میں قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
کنٹریکٹ ملازم کو ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا اضافی چارج دے دیا گیا، قوانین کی خلاف ورزی
چیف سیکریٹری ، وزیر صحت اور دیگر متعلقہ حکام سے صورتحال کا نوٹس لینے کی درخواست
(رپورٹ) قومی ادارہ برائے امراضِ قلب (این آئی سی وی ڈی) کراچی میں انتظامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی سامنے آئی ہے ۔ ادارے کے سربراہ ڈاکٹر طاہر صغیر کی 26اکتوبر سے بیرونِ ملک روانگی کے لیے رخصت کی درخواست منظور کرلی گئی ہے ۔ ذرائع کے مطابق سیکریٹری صحت سندھ نے ڈاکٹر طاہر صغیر کی رخصت کی منظوری دیتے ہوئے باضابطہ طور پر نوٹیفکیشن جاری کیا ہے ، جس کے تحت این آئی سی وی ڈی کا اضافی چارج پروفیسر امین ایم خواجہ (ستھیٹسٹ) کے سپرد کیا گیا ہے ۔تاہم یہ اقدام کئی قانونی سوالات کو جنم دے رہا ہے ، کیونکہ پروفیسر امین ایم خواجہ این آئی سی وی ڈی کے کنٹریکٹ ملازم ہیں اور پانچ سال قبل ریٹائر ہو چکے ہیں۔ قواعد کے مطابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی آسامی گریڈ 20 یا 21 کے افسر کے لیے مخصوص ہے ، جبکہ کنٹریکٹ یا ریٹائرڈ ملازم کو اس عہدے کا چارج دینا غیر قانونی عمل ہے ۔ مزید برآں، یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ ڈاکٹر طاہر صغیر خود ہی پروفیسر امین ایم خواجہ کا کنٹریکٹ وقتاً فوقتاً غیر قانونی طور پر توسیع دیتے رہے ہیں۔قانونی ماہرین کے مطابق اضافی چارج دینے کا اختیار صرف سروسز وِنگ (S&GAD) کے پاس ہے جبکہ محکمہ صحت کو اس نوعیت کی تعیناتی کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکریٹری صحت سندھ کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹیفکیشن قانون کی صریح خلاف ورزی ہے ، جس پر وزیرِ صحت، چیف سیکریٹری سندھ اور سیکریٹری سروسز سے نوٹس لینے کی درخواست کی گئی ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: سی وی ڈی
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔