انکم ٹیکس ریٹرن جمع کروانے والوں کیلئے اہم خبر
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
سٹی42انکم ٹیکس ریٹرن 2025 جمع کرانے کے لیے صرف دو دن باقی ہیں، تاہم ٹیکس دہندگان اب بھی ایف بی آر کے آئی آر ایس سسٹم میں تکنیکی خرابیاں اور دیگر مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔
لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن نے اس ضمن میں وزیراعظم کو خط لکھ کر صورتحال سے آگاہ کیا ہے اور ریٹرن جمع کروانے میں درپیش مشکلات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ٹیکس دہندگان کا کہنا ہے کہ سافٹ ویئر میں غلط حسابات اور تاخیر کی وجہ سے ریٹرن جمع کرانا مشکل ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ اے او پی نے شیئر انکم پر غلط ٹیکس لاگو کیا اور غیر قانونی ٹیکس کی تقسیم کا مسئلہ بھی سامنے آیا ہے، جس کی وجہ سے ٹیکس دہندگان کو اضافی مشکلات کا سامنا ہے۔
لیسکو کی جانب سے سنگل فیز اسمارٹ میٹر کی قیمت مقرر
انکم ٹیکس ریٹرن 2025 کی اشاعت میں 219 دن کی تاخیر ہوئی۔ ایف بی آر کی جانب سے ریٹرن فارم یکم دسمبر 2024 تک شائع ہونا تھا، لیکن یہ فارم 7 جولائی 2025 کو جاری کیا گیا، جس کے نتیجے میں قانونی مدت کے 49 دن ضائع ہو گئے۔ قانون کے مطابق ٹیکس دہندگان کو گوشوارہ جمع کروانے کے لیے صرف 92 دن کا وقت دیا گیا ہے۔
لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ آئی آر ایس سسٹم کی خرابیوں کے باوجود ایف بی آر نے آخری تاریخ برقرار رکھی، جس پر سخت تنقید کی گئی ہے۔ انہوں نے سفارش کی ہے کہ جمع کرانے کی تاریخ کو 30 نومبر تک بڑھایا جائے تاکہ ٹیکس دہندگان اپنی ریٹرنز بلاوجہ کی پریشانی کے بغیر جمع کروا سکیں۔
امتحانات سے قبل ہی لاہور بورڈ کی نااہلی سامنے آگئی
ایسوسی ایشن نے واضح کیا کہ اگر تاریخ میں توسیع نہ کی گئی تو بڑی تعداد میں ٹیکس دہندگان ریٹرن جمع نہ کر سکیں گے اور اس سے مالیاتی اور قانونی مشکلات پیدا ہوں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ٹیکس دہندگان ریٹرن جمع
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔