پنجاب میں گرین اسٹیکرکےبغیرگاڑیوں کی آمدورفت پرپابندی
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور:پنجاب انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (ای پی اے) نے 15 نومبر 2025ءکے بعد صوبے میں گرین ا سٹیکر کے بغیر گاڑیوں کی آمدورفت پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈائریکٹر جنرل ماحولیات ڈاکٹر شیخ کا کہنا ہے کہ لاہور میں ہر گاڑی کے لیے ایگزاسٹ ٹیسٹنگ (ETS) لازمی قرار دے دی گئی اور صوبے بھر میں ماحولیاتی معیار کی خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کے خلاف زیرو ٹالرینس کریک ڈاو ¿ن شروع کر دیا گیا ہے۔
15 نومبر کے بعد لاہور کی سڑکوں پر بغیر ای ٹی ایس سرٹیفکیٹ یا گرین اسٹیکر والی کسی گاڑی کو دیکھتے ہی ضبط کر لیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ گاڑیوں کے دھوئیں اور شور کی جانچ اب اختیاری نہیں بلکہ لازمی ہے اور ٹیسٹ میں ناکام گاڑیوں کے مالکان کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔
ای پی اے پنجاب نے لاہور سے انسداد آلودگی مہم کا آغاز کر دیا ہے اور شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی گاڑیاں ٹیسٹ کروائیں بصورت دیگر انہیں سڑکوں سے ہٹا دیا جائے گا، صرف وہی گاڑیاں چل سکیں گی جو ماحولیاتی قوانین پر مکمل عمل درآمد کر رہی ہوں گی۔
علاوہ ازیں پنجاب میں ٹوکن ٹیکس نادہندگان کے خلاف بھی سخت کارروائی جاری ہے جس کے تحت 5 لاکھ سے زائد گاڑیوں کی رجسٹریشن معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
روڈ چیکنگ کے دوران پکڑی گئی بڑی ٹوکن ٹیکس ڈیفالٹر گاڑیوں کو بند کیا جائے گا، نان رجسٹرڈ سرکاری اور غیر سرکاری گاڑیوں کو بھی بلاک کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
یہ اقدام ٹوکن ٹیکس کے نظام میں شفافیت اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ ڈی جی ایکسائز عمر شیر چٹھہ نے 31 اکتوبر تک ٹوکن ٹیکس ادا نہ کرنے والی گاڑیوں کی رجسٹریشن معطل کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔
ویب ڈیسک
Faiz alam babar
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گاڑیوں کی ٹوکن ٹیکس
پڑھیں:
اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
پنجاب اسمبلی (فائل فوٹو)۔اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کے لیے پنجاب اسمبلی میں ارکان کے لیے جدید ٹیبلٹس انسٹال کر دییے گئے۔
لاہور سے ترجمان پنجاب اسمبلی کےمطابق صوبائی اسمبلی کا اگلا اجلاس پیپر لیس ہو گا، 380 ٹیبلٹس یورپین یونین کے آئی پی 5 پروگرام کے تحت پنجاب اسمبلی کو فراہم کیے گئے۔
ترجمان کے مطابق ایپلیکیشن پی آئی ٹی بی نے محکمہ قانون اور اسمبلی آئی ٹی ٹیم کی مشاورت سے تیار کیا، جو صرف اسمبلی کارروائی کے لیے ہے۔
چوہدری عامر حبیب کے مطابق اس فیصلہ سے گرین انرجی کے تحت توانائی کی بچت بھی ہو گی۔