اسلام آباد ہائی کورٹ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں نجی بینک کے 12 ارب روپے کے منجمد شیئرز ڈی فریز کرنے کے احتساب عدالت کے فیصلے کو فوری معطل کرنے کی قومی احتساب بیورو (نیب) کی استدعا مسترد کر دی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس خادم حسین سومرو نے نیب کی اپیل پر سماعت کی، جس میں احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف کارروائی کی گئی تھی۔ عدالت نے فوری کارروائی روکنے کی نیب کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ہدایت کی کہ کیس سے متعلقہ دستاویزات متفرق درخواست کے ذریعے جمع کرائی جائیں۔
چیف جسٹس نے نیب کو کہا کہ متعلقہ دستاویزات جمع کرانے کے بعد کیس کی دوبارہ سماعت کی جائے گی۔ سماعت کے دوران ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب نے موقف اختیار کیا کہ احتساب عدالت نے شیئرز ڈی فریز کر کے اپنے اختیار سے تجاوز کیا ہے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ نیب نے شیئرز کو فریز کر کے گزشتہ چھ ماہ سے متاثرہ شخص کو نقصان پہنچایا، جبکہ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ نجی بینک کے شیئرز ہیں اور ہم کسی کو فائدہ نہیں پہنچا رہے۔
سماعت میں یہ بھی بحث ہوئی کہ سپریم کورٹ نے آرٹیکل 184/3 کے تحت نیب کو تحقیقات کے لیے عملدرآمد بنچ بنانے کا حکم دیا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کوئی بادشاہ سلامت نہیں، بلکہ ہائی کورٹ قانون کے مطابق آرڈر کرتی ہے اور مکمل انصاف یقینی بناتی ہے۔
عدالت نے ہدایت کی کہ کیس سے متعلق تمام دستاویزات جمع کرائیں، اور سماعت کو بعد میں ملتوی کر دیا گیا۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: چیف جسٹس

پڑھیں:

کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ

مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔

مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی